بچوں کا عالمی دن اور پاکستان کا مستقبل
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
دنیا ہر سال 20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن مناتی ہے۔ اس دن دنیا بھر میں بچوں کے حقوق، ان کی فلاح، ان کی ترقی اور ان کے تحفظ پر آواز بلند کی جاتی ہے۔ عالمی اداروں کے پلیٹ فارمز سے لے کر چھوٹے شہروں تک ہر جگہ یہ یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ انسان کی بقا صرف بڑوں کے فیصلوں سے ممکن نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل سے جڑی ہوتی ہے۔ بچے وہ آنکھیں ہیں جن سے آنے والا زمانہ اپنی سمت دیکھتا ہے۔ ان کی مسکراہٹیں معاشرے میں امید جگاتی ہیں اور ان کے آنسو ہماری اجتماعی ناکامیوں کی نشانی ہوتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچے محض خاندان کا حصہ نہیں بلکہ پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں بچوں کے مسائل ایک نہیں بلکہ کئی پرتوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بچہ ہونا آسان نہیں۔ غربت کا خوف، بیماریوں کی مار، گھریلو تشدد، سکول سے دوری، کام کی مشقت، معاشرتی تفریق اور تحفظ کا فقدان انہیں بہت سے محرومیوں کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ جب کوئی قوم اپنے بچوں کو ان کے حقوق نہیں دیتی تو مستقبل خود اس قوم سے منہ موڑ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے عالمی دن پر پاکستان کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
سب سے پہلا سوال حقوق کا ہے۔ بچوں کے حقوق کی بات ہم اکثر دعووں میں
کرتے ہیں مگر عمل میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ بچے تعلیم چاہتے ہیں، صحت چاہتے ہیں، اظہار رائے کا حق چاہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک محفوظ ماحول چاہتے ہیں۔ ان کے حقوق اقوام متحدہ کے کنونشن میں واضح طور پر درج ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں ان حقوق پر سختی سے عمل ہوتا ہے لیکن پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ شہروں میں پھر بھی کچھ سہولتیں موجود ہیں مگر دیہی علاقوں میں بچوں کے بنیادی حق بھی ادھورے رہ جاتے ہیں۔
چائلڈ لیبر اس ملک کا ایسا مسئلہ ہے جو ہر چوک، ہر گلی اور ہر دکان پر نظر آتا ہے۔ ایک طرف چھوٹی عمر کے بچے ہوٹلوں میں برتن دھوتے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ورکشاپوں میں گاڑیوں کے نیچے لیٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض بچے بھٹوں پر اینٹیں اٹھاتے ہیں اور بعض فیکٹریوں میں مشینوں کے شور کے بیچ اپنی معصوم سماعتیں کھو دیتے ہیں۔ یہ بچے کھیلنے کی عمر میں محنت کی سختیاں برداشت کرتے ہیں۔ ان کے چہرے وہ تھکن لیے ہوتے ہیں جو بڑوں کے حصے کی ہوتی ہے۔ غربت والدین کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کی بجائے مزدوری پر بھیجیں۔ ریاستی اداروں کی کمزور عملداری اور معاشرتی بے حسی اس مسئلے کو مزید گھمبیر کر دیتی ہے۔
تعلیم سے دوری بھی ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ پاکستان کے لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ کچھ کے گھر کے قریب سکول نہیں اور کچھ کے والدین فیسوں، کتابوں اور ٹرانسپورٹ کا خرچ برداشت نہیں کر پاتے۔ بعض سکول عمارت نہ ہونے یا اساتذہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے صرف نام کے رہ گئے ہیں۔ شہروں میں تعلیم اس قدر مہنگی ہو چکی ہے کہ عام والدین کے لیے اپنے بچوں کو اچھا سکول دلانا ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ طبقاتی تعلیمی نظام نے بچوں میں وہ تفریق پیدا کر دی ہے جو عمر بھر ختم نہیں ہوتی۔ ایک بچہ ایلیٹ سکول میں پڑھے تو اس کا مستقبل روشن ہو جاتا ہے اور ایک بچہ سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کرے تو وسائل کی کمی اسے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔
صحت کے معاملے میں بھی بچے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ غذائی قلت کی شرح بڑھ رہی ہے۔ ایک بڑی تعداد مناسب خوراک نہ ملنے کے باعث ذہنی اور جسمانی نشوونما میں پیچھے رہ جاتی ہے۔ صاف پانی کی قلت انہیں بیماریوں کے خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ علاج کے مراکز یا تو کم ہیں یا ان کے پاس وسائل نہیں۔ پولیو ایک ایسا مسئلہ ہے جو اب بھی پاکستان کو عالمی سطح پر پریشان کن مثال بناتا ہے۔ بچوں کا کمزور جسم اور بیمار ذہن مستقبل کی صلاحیتوں کو محدود کر دیتا ہے۔
بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات ہمارے معاشرے کا سب سے تباہ کن پہلو ہیں۔ قصور سے لے کر دیگر شہروں تک بے شمار ایسے واقعات سامنے آئے جنہوں نے پوری قوم کو دہلا کر رکھ دیا۔ ان کیسز کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے کیونکہ خاندان بدنامی کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔ رپورٹ ہونے والے کیسز میں بھی انصاف کا حصول بہت مشکل ہے۔ نظام کی سستی اور مجرموں کے بااثر ہونے کی وجہ سے اکثر مظلوم بچے ساری زندگی خوف میں جینا سیکھ لیتے ہیں۔ ان بچوں کے پاس نہ مناسب تحفظ ہوتا ہے نہ نفسیاتی مدد۔
تشدد کی ایک اور شکل گھروں اور سکولوں میں بچوں پر ہاتھ اٹھانا ہے۔ ہم نے سزا کو نظم و ضبط کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ والدین کا غصہ، اساتذہ کی سختی اور ماحول کا دباؤ بچے کی شخصیت کو توڑ دیتا ہے۔ بچے چپ تو ہو جاتے ہیں مگر ان کے اندر خوف بیٹھ جاتا ہے۔ یہ خوف بہت سے بچوں کی صلاحیتیں ختم کر دیتا ہے۔ وہ بات کرنے سے گھبراتے ہیں، سوال کرنے سے ڈرتے ہیں اور اپنے اندر بند ہو جاتے ہیں۔
جو بچے سکول جاتے بھی ہیں انہیں ہمیشہ وہ توجہ نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ والدین کی مصروفیات اور اساتذہ کی بے حسی بہت سے بچوں کی قابلیت کو دبا دیتی ہے۔ ہر بچہ ایک منفرد ذہن رکھتا ہے لیکن ہم ان سب کو ایک ہی معیار سے پرکھتے ہیں۔ اس بنیاد پر کئی بچے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان کا مستقبل بھی متاثر ہوتا ہے۔
پاکستان کے تعلیمی سسٹم کی تفریق بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک طرف ایلیٹ سکول ہیں جو اعلیٰ نصاب، سمارٹ کلاسز اور غیر نصابی سرگرمیاں فراہم کرتے ہیں اور دوسری طرف سرکاری سکول ہیں جو وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ پرائیویٹ سکول اپنے طور پر تعلیم دیتے ہیں مگر فیسیں عام والدین کی پہنچ سے باہر ہیں۔ اس تقسیم نے بچوں کے ذہن میں بھی فرق ڈال دیا ہے۔ معاشرتی طبقاتی سوچ انہی سکولوں سے جنم لیتی ہے۔
اس کے علاوہ بچوں کی ذہنی صحت کا مسئلہ بھی بڑھ رہا ہے۔ گھریلو لڑائیاں، معاشی دباؤ اور سماجی مسائل بچوں کے ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بہت سے بچے ڈپریشن، گھبراہٹ اور تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں۔ سکولوں میں کونسلنگ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
ڈیجیٹل دور نے نئے چیلنج بھی پیدا کیے ہیں۔ موبائل فون بچوں میں کھیل کا متبادل بن چکا ہے۔ گیمز کا نشہ، آن لائن دنیا کی بے راہ روی اور الیکٹرانک میڈیا کی بے لگام معلومات بچوں کی تربیت کو متاثر کر رہی ہے۔ سائبر بلیئنگ کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔
بچوں کے لیے کھیل کے میدان، پارکس اور لائبریریاں بھی کم ہو چکی ہیں۔ بچے ذہنی اور جسمانی سرگرمیوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ گھروں میں جگہ کم ہے، سڑکوں پر ٹریفک کا شور ہے اور محلوں کا ماحول محفوظ نہیں۔
بچوں کے مسائل کے حل کے لیے ریاست، والدین، اساتذہ اور معاشرہ سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ریاست کو تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔ بچوں کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل کروانا ہوگا۔ والدین کو بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا۔ اساتذہ کو تربیت اور محبت دونوں سے بچوں کی رہنمائی کرنی ہوگی اور معاشرے کو بچوں کی اہمیت پہچاننی ہوگی۔
بچوں کا عالمی دن ہمیں صرف تقریر کرنے کے لیے نہیں ملتا۔ یہ دن سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے اپنے بچوں کو وہ مستقبل دیا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ اگر ہم آج بھی خاموش رہے تو کل ہمیں انہی بچوں کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ بچوں کی مسکراہٹ محفوظ ہو تو قوم کا مستقبل روشن ہوتا ہے۔ ہمیں ان مسکراہٹوں کی حفاظت کرنی ہے اور یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے۔
یوسف صدیقی







