- Advertisement -

اُخوّت نہیں ہے ، مُروّت نہیں ہے

شہناز رضوی کی ایک اردو غزل

اُخوّت نہیں ہے ، مُروّت نہیں ہے
تِرے دل میں کوئی مُحبّت نہیں ہے

وہ گھر ہے یا ہے قید خانہ جہاں سے
نکلنے کی تُجھ کو اجازت نہیں ہے

ہمیں یاد رکھنے کی زحمت نہ کرنا
تکلُّف کی کوئی ضرورت نہیں ہے

سُنا جو بھی کانوں نے سب جھوٹ نِکلا
جو آنکھوں نے دیکھا حقیقت نہیں ہے

اِلہٰی یہ کیوں ایسا وقت آ گیا ہے
کسی چیز میں کوئی لزّت نہیں ہے

اگر تُو ہے شرمندہ دل سے ، تو سُن لے
ہمارے بھی دل میں کدورت نہیں ہے

یہ آنکھیں تو “ شہناز “ پتھرا گئی ہیں
تُجھے دیکھنے کی اجازت نہیں ہے

 شہناز رضوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شہناز رضوی کی ایک اردو غزل