آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمنیب الرحمن عارفی

کیا مصنوعی ذہانت انسان کی آخری ایجاد ہو سکتی ہے؟

تحریر: منیب الرحمن عارفیؔ

گزشتہ چند برسوں میں ایک لفظ بار بار سننے کو مل رہا ہے۔ یہ لفظ ہے مصنوعی ذہانت۔ انگریزی میں اسے اے آئی کہا جاتا ہے۔ خبروں میں اس کا ذکر ہوتا ہے، سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں باتیں ہوتی ہیں، اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں اسے مستقبل کی ایک بڑی تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اسے ترقی کا نیا دروازہ کہتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اس کے بارے میں تھوڑا سا فکر مند بھی دکھائی دیتے ہیں۔
اگر سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو مصنوعی ذہانت ایسے کمپیوٹر نظام کو کہا جاتا ہے جو انسان کی طرح سوچنے اور سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ماضی میں کمپیوٹر صرف وہی کام کرتے تھے جو انسان انہیں بتاتا تھا۔ اگر کوئی ہدایت نہ دی جائے تو وہ خود کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اب ٹیکنالوجی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مشینیں خود بھی سیکھنے لگتی ہیں اور نئے نمونوں کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا کر لیتی ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کسی مشین کو ہزاروں تصویریں دکھائی جائیں تو وہ آہستہ آہستہ یہ سیکھ سکتی ہے کہ تصویر میں کیا موجود ہے۔ اسی طرح اگر اس سے کوئی سوال پوچھا جائے تو وہ مختلف معلومات کو دیکھ کر جواب دینے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو محسوس ہونے لگا ہے کہ مشینیں اب صرف خاموش اوزار نہیں رہیں بلکہ کسی حد تک سمجھنے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہی ہیں۔
آج دنیا کے بہت سے کام ایسے ہیں جن میں مصنوعی ذہانت استعمال ہو رہی ہے۔ انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کرنا، بڑی مقدار میں ڈیٹا کو سمجھنا، یا طویل رپورٹ تیار کرنا ایسے کام ہیں جو پہلے انسان کو کافی وقت لے کر کرنے پڑتے تھے۔ اب یہی کام بہت کم وقت میں ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے دنیا کی بڑی کمپنیاں اور ادارے تیزی سے اس ٹیکنالوجی کو اپنا رہے ہیں۔
کاروبار کی دنیا میں اس تبدیلی کو صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فرض کریں ایک آن لائن دکان ہے جہاں پہلے کئی لوگ گاہکوں کے سوالوں کے جواب دیتے تھے، آرڈر سنبھالتے تھے اور حساب کتاب کرتے تھے۔ اب ایک ایسا نظام بنایا جا سکتا ہے جو ان میں سے کئی کام خود انجام دے دے۔ اس سے کمپنی کا وقت بھی بچتا ہے اور اخراجات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے۔ اگر مشینیں زیادہ تر کام خود کرنے لگیں تو انسان کا کردار کیا رہ جائے گا۔ دنیا کے بہت سے ماہرین اسی سوال پر غور کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے کئی پرانی نوکریاں کم ہو سکتی ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ نئی قسم کی نوکریاں بھی پیدا ہوں گی جو پہلے موجود نہیں تھیں۔
مصنوعی ذہانت کا ایک روشن پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ انسانوں کی زندگی کو آسان بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ڈاکٹر بیماریوں کو جلد پہچان سکتے ہیں، اساتذہ طلبہ کو بہتر انداز میں پڑھا سکتے ہیں، اور سائنس دان نئی تحقیق زیادہ تیزی سے کر سکتے ہیں۔ اس طرح یہ ٹیکنالوجی کئی شعبوں میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔
اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی مکمل طور پر ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ بعض اوقات یہ ایسے نتائج بھی دے دیتی ہے جو انسان کو حیران کر دیتے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسے احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک طاقتور اوزار کی طرح ہے۔ جیسے ایک ہی چیز فائدہ بھی دے سکتی ہے اور نقصان بھی پہنچا سکتی ہے، اسی طرح اس ٹیکنالوجی کا اثر بھی اس بات پر منحصر ہے کہ انسان اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگر اسے سمجھداری اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی ہماری روزمرہ زندگی کا اور بھی بڑا حصہ بن جائے گی۔ موبائل فون، تعلیم، کاروبار اور تحقیق جیسے کئی شعبوں میں اس کا استعمال بڑھتا جائے گا۔ اسی لیے بہتر یہی ہے کہ لوگ اس کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ جو لوگ آج اس تبدیلی کو سمجھیں گے، وہ کل کی دنیا میں زیادہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے۔
ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے۔ کیا واقعی مصنوعی ذہانت انسان کی آخری ایجاد ثابت ہوگی؟ یا یہ صرف ایک ایسا نیا اوزار ہے جو انسان کو مزید نئی راہیں دکھائے گا؟ اس سوال کا واضح جواب ابھی کسی کے پاس نہیں۔ مگر یہ بات ضرور محسوس کی جا سکتی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آنے والے وقت میں دنیا کے بہت سے فیصلوں اور تبدیلیوں پر گہرا اثر ڈالے گی۔

منیب الرحمن عارفیؔ

post bar salamurdu

منیب الرحمن عارفی

منیب عارفی، مانسہرہ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک معروف مصنف ہیں۔ نوجوانوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لیے انہوں نے نیشنل یوتھ ٹیلنٹ پاکستان قائم کیا۔ وہ عام طور پر نوجوانوں، تعلیم، والدین، پاکستانی معاشرے اور نئے ہنر کے بارے میں لکھتے ہیں، اور ان کا مقصد معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button