دائرہ علم و ادب بلوچستان کے زیرِ اہتمام ادارہ ثقافت کے خصوصی تعاون سے دائرہ علم و ادب بلوچستان کے سینٰر نائب صدر جناب پروفیسر رشید حسرت کی کتاب ” پیلی دھوپ ” کی تقریبِ پزیرائی اور مظہر نقوی کے اعزاز میں بھرپور مشاعرہ منعقد ہوا۔جس کی صدارت بلوچستان کے معروف سینئر شاعر جناب سرور جاوید نے کی۔
آج کی ادبی شام یقیناً اُن یادگار لمحوں میں شامل رہی جنہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، مکمل طور پر لفظوں میں سمیٹنا آسان نہیں۔محترم کامران قمر صاحب کی مسلسل ادبی کاوشیں اس
بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ادب کو محض مشغلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اُن کی محنت، خلوص اور اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی صلاحیت قابلِ تحسین ہے۔
آج کے مشاعرے میں جس وقار، ترتیب اور محبت کا مظاہرہ ہوا، وہ ان کی ادبی وابستگی کا روشن عکس تھا۔اس خوبصورت ادبی نشست کی ایک خاص بات ممتاز شاعر و ادیب پروفیسر رشید حسرت صاحب کی کتاب "پیلی دھوپ” کی تقریبِ پذیرائی بھی تھی۔ یہ کتاب اپنے اندر احساس، مشاہدے اور زندگی کے مختلف رنگ سموئے ہوئے ہے۔ رشید حسرت صاحب کا اسلوب سنجیدگی، فکر اور داخلی سچائی کا آئینہ دار ہے۔ "پیلی دھوپ” محض ایک کتاب نہیں بلکہ جذبوں، یادوں اور معاشرتی شعور کی ایسی دستاویز ہے جو قاری کے دل میں دیر تک اپنی روشنی قائم رکھتی ہے۔
اس پورے پروگرام میں دائرۂ علم و ادب کا اشتراک بھی لائقِ ستائش رہا۔ ایسی ادبی تنظیمیں دراصل معاشرے میں علم، شعور اور تخلیقی اقدار کو زندہ رکھنے کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ ادب دوست لوگوں کو ایک چھت تلے جمع کرنا، نئی آوازوں کو حوصلہ دینا اور کتاب و قلم کے رشتے کو مضبوط بنانا یقیناً ایک بڑی خدمت ہے اور کراچی سے تشریف لائے ہوئے مہمان شاعر مظہر نقوی کی محبت اور خلوص اپنا ہی معیار تھا
مشاعرے میں شعراء نے محبت، ہجر، زندگی اور سماجی احساسات کو جس خوبصورتی سے پیش کیا، اُس نے محفل کو دیر تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ سامعین کی بھرپور داد اس بات کا ثبوت تھی کہ اچھا ادب آج بھی دلوں پر اثر رکھتا ہے۔
دعا ہے کہ کامران قمر صاحب، پروفیسر رشید حسرت صاحب اور دائرۂ علم و ادب کی یہ روشن ادبی سرگرمیاں اسی طرح علم و فن کی شمعیں روشن کرتی رہیں اور ہماری ادبی روایت کو مزید مضبوط بنائیں۔
پاکستان زندہ آباد بلوچستان پائندہ آباد








