اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

سیر مانند صبا کیجے گا

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

سیر مانند صبا کیجے گا
رہ کے گلشن میں بھی کیا کیجے گا

کس توقع پہ صدا کیجے گا
نہ سنے کوئی تو کیا کیجے گا

حق پرستی ہے بڑی بات مگر
روز کس کس سے لڑا کیجے گا

بن گئے لالہ و گل جز و قفس
کس سے اب ذکر صبا کیجے گا

دوستی شرط نہیں ہے کوئی
بس یونہی ہم سے ملا کیجے گا

لو سلام سر رہ سے بھی گئے
اور جا جا کے گلا کیجے گا

طوف کعبہ کو گئے تو باقیؔ
میرے حق میں بھی دعا کیجے گا

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button