سائٹ کا نقشہ
- اُسی پُرنور سی شب کو، شبِ معراج کہتے ہیں
- اسے میں بھول جاؤں گی
- ابّو جی
- عبادت میں تری، آڑے نہ آیا کوئی بھی پتھر
- فلک کے چاند کو غرقاب دیکھنے کے لیے
- زخمِ دل پھر سے مندمل ہوں گے
- بارِمحراب نہ سجدے سے پتا چلتا ہے
- میں محبت ہوں تو محبت ہے
- یہی نہیں کہ فقط شاعری دھڑکنے لگی
- جدائی ختم ہوئی جگ ہنسائی ختم ہوئی
- باندھ لی جاتی کمر کاٹ دیے جاتے تھے
- سامان وہ رکھا ہے قرینے سے ہمارا
- بات کے بیچ بول اٹھتے ہو
- رات بھر سبز مزارات نظر آتے رہے
