آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

جو لفظ چِھین کے اِظہارکھینچ لیتی ہے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

جو لفظ چِھین کے اِظہارکھینچ لیتی ہے
ہمیں تو وقت کی رفتار کھینچ لیتی ہے

ہر ایک بار کشِش سے میں بچ کے رہتا ہُوں
ہر ایک بار وہ گُفتار کھینچ لیتی ہے

ہمارے ہونٹ کبھی سچ کا بوجھ اُٹھاتے نہِیں
ہوائے کذب جو پتوار کھینچ لیتی ہے

ہماری ہاں کو نہِیں میں بدلتی رہتی ہے
وہ اِک چُڑیل جو اِنکار کھینچ لیتی ہے

چلا نصِیب کے خانے سے کھینچنے روٹی
سو اُس کو برق کی اِک تار کھینچ لیتی ہے

مُغنیہ ہے کوئی وہ کہ قوس مہکی ہُوئی
بدن میں ناچتے سب تار کھینچ لیتی ہے

کشش یہ کیسی رہی ساحِرہ کی آنکھوں کی
پکڑ کے ڈھال جو تلوار کھینچ لیتی ہے

بچو بچو یہی عُشّاق میں تھا شور بپا
ہر ایک بار میں دو چار کھینچ لیتی ہے

میں اس کے ساتھ کہیں گھومنے کو جاؤں تو
وہ اک سہیلی کو بیکار کھینچ لیتی ہے

رقم بچا کے حقیقی سے تھوڑی گھر لاؤں
تو وہ بھی گھر کی یہ سرکار کھینچ لیتی ہے

رشِیدؔ ہم ہیں انا کا غِلاف اوڑھے ہُوئے
کشِش وہ زر میں ہے فنکار کھینچ لیتی ہے

رشِید حسرتؔ

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button