آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریضیا مذکور

اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے

ضیا مذکور کی ایک اردو غزل

اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے
چھ دروازے توڑ چکا ہوں اک دروازہ باقی ہے

دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست
کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے

میں برسوں سے کھول رہا ہوں اک عورت کی ساڑھی کو
آدھی دنیا گھوم چکا ہوں آدھی دنیا باقی ہے

کبھی کبھی تو دل کرتا ہے چلتی ریل سے کود پڑوں
پھر کہتا ہوں پاگل اب تو تھوڑا رستہ باقی ہے

اس کی خاطر بازاروں میں بھیڑ بھی ہے اور رونق بھی
میں گم ہونے والا ہوں بس ہاتھ چھڑانا باقی ہے

ضیا مذکور

post bar salamurdu

ضیا مذکور

نام ضیاءالقمر قلمی نام ضیا مذکور آبائی شہر بہاول پور تعلیم بی اے آنرز انگریزی پیشہ لیکچرار انگریزی ایم ٹی بی کالج صادق آباد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button