تعلیم، ہنر اور روزگار: نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں
ہمارے معاشرے میں تعلیم ہمیشہ سے ترقی، شعور اور شخصیت سازی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ مگر پچھلے چند برسوں میں اعلیٰ تعلیم کے نظام میں جو بے ترتیبی پیدا ہوئی ہے اس نے نوجوانوں کی زندگیوں میں ایک نئی الجھن پیدا کر دی ہے۔ یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ہر سال ہزاروں نوجوان ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔ ظاہری طور پر یہ منظر خوش کن لگتا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ڈگریوں کی فراوانی نے معیار کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے اور روزگار کی منڈی میں غیر متوازن صورت حال پیدا کر دی ہے۔
ہمارے ملک کی یونیورسٹیاں علم سے زیادہ اس دوڑ میں شامل دکھائی دیتی ہیں کہ کون زیادہ ڈگریاں تقسیم کر سکتا ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد تربیت، ہنر اور کردار سازی ہے مگر یہ مقصد
پیچھے رہ گیا ہے۔ طلبہ کلاس روم سے تو نکلتے ہیں لیکن عملی دنیا کے چیلنجوں کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کے پاس کاغذی اہلیت موجود ہے مگر وہ ہنر اور عملی مہارتوں سے محروم رہ جاتے ہیں جو آج کی جدید معیشت اور مارکیٹ کی ضروریات کے لیے لازمی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں عملی تربیت کے مواقع محدود ہیں۔ بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں ہمارے ہاں انٹرن شپ، پروجیکٹس، کمیونیکیشن اسکلز اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کا فقدان نمایاں ہے۔
اس کے برعکس معاشرے میں ہنرمند افراد کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ والدین اور طلبہ کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔ اب ڈگری کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ ہنر کو ثانوی اور غیر ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ٹیکنیکل ادارے خالی پڑتے جا رہے ہیں اور مارکیٹ جدید ہنر سے محروم لوگوں کو پیدا کر رہی ہے۔ ملک کا وہ طبقہ جو ہاتھوں کے ہنر سے معیشت کی بنیاد بنتا ہے وہ کم ہوتا جا رہا ہے اور اس کے معاشی اثرات وقت کے ساتھ مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔
جب ڈگری یافتہ نوجوان عملی دنیا میں روزگار تلاش کرتے ہیں تو انہیں ایک تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مارکیٹ میں اس قدر نوجوان موجود ہیں کہ ایک نشست کے لیے بیسیوں امیدوار کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تنخواہیں کم اور مواقع محدود ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے نوجوانوں کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے روزگاری کا بڑھنا صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بحران بھی ہے۔ گھر والے توقعات کے بوجھ کے ساتھ نوجوان کو دیکھتے ہیں جبکہ نوجوان خود کو ناکامی کے دہانے پر محسوس کرنے لگتا ہے۔ مایوسی کے بڑھنے سے نوجوان جرائم، چوری چکاری اور منشیات کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ بعض نوجوان تو اتنی گہری مایوسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ زندگی کو ختم کرنے جیسے انتہائی قدم کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب رہا ہے۔
ریاست، معاشرہ اور تعلیمی ادارے اگر بروقت سمت درست نہ کریں تو یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں ایک بڑے بحران کا روپ اختیار کر لے گا۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنائے۔ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ ہونا چاہیے تاکہ یونیورسٹیاں طلبہ کو وہ مہارتیں سکھائیں جن کی مارکیٹ کو واقعی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے لیے ایسے پلیٹ فارم فراہم کرنے ہوں گے جو انہیں عملی تربیت دیں اور انہیں جدید ہنر سکھا کر روزگار کے قابل بنائیں۔ اسی طرح انٹرن شپ پروگرام، سٹارٹ اپ کلچر اور فری لانسنگ کی تربیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نوجوانوں کو بھی اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ کامیابی صرف ڈگری کے نام پر حاصل ہوتی ہے۔ اصل کامیابی اس ہنر اور قابلیت کا نام ہے جو انسان کو زندگی میں خود مختار اور مضبوط بناتی ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اس بدلتی دنیا میں وہی نوجوان آگے بڑھ سکتا ہے جو سیکھنے کی لگن رکھتا ہو، محنت کرنے کے لیے تیار ہو اور مارکیٹ کی ضروریات کو سمجھتا ہو۔ نوجوان اگر مسلسل سیکھتے رہیں تو ان کے لیے کامیابی کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ ہمیں معاشرے میں یہ سوچ پیدا کرنی ہوگی کہ ہنر مند کو باوقار مقام دیا جائے۔ جب معاشرہ ہنر کی قدر کرے گا تو نوجوان خود بخود اس سمت آئیں گے۔
آخر میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ نئے گریجویٹس کا مسئلہ صرف انفرادی نہیں بلکہ قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ قوم کے مستقبل کا سوال ہے کیونکہ نوجوان ہی وہ سرمایہ ہیں جو ملک کی ترقی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اس سرمایہ کی حفاظت، پرورش اور رہنمائی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے تعلیم اور ہنر کے درمیان توازن قائم کر لیا تو نہ صرف بے روزگاری کم ہوگی بلکہ نوجوان اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا کر معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کریں گے۔ یہی قدم ہماری قوم کو مضبوط بنائے گا اور اسے وہ سمت دے گا جس کی اسے شدید ضرورت ہے۔
یوسف صدیقی








