آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

پاکستانی یونیورسٹیوں کی بقا کا واحد راستہ

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

پاکستان کی اعلیٰ تعلیم آج ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ دنیا تیزی سے ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور بین الضابطہ علوم کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہماری یونیورسٹیاں ابھی بھی روایتی طریقوں اور الگ الگ شعبوں کی حدود میں محدود ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ تبدیلی ضروری ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ تبدیلی کس سمت میں اور کس حکمت عملی کے تحت آئے گی۔ میرا واضح مؤقف یہ ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیوں کے پاس آگے بڑھنے کا واحد راستہ ڈگریاں ختم کرنا نہیں، بلکہ ان کی ارتقائی اصلاح ہے۔

آج جن شعبوں کو ہم مستقبل کے شعبے کہتے ہیں، جیسے مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سائیبر سیکیورٹی، بزنس اینالیٹکس، فِن ٹیک، ڈیٹا سائنس، کمپیوٹیشنل سوشل سائنسز، کمپیوٹیشنل بائیالوجی اور روبوٹکس، یہ کوئی الگ تھلگ مضامین نہیں بلکہ ریاضی، کمپیوٹر سائنس، اکنامکس، مینجمنٹ، سوشل سائنسزpak universities اور بائیولوجی کا جدید امتزاج ہیں۔ حقیقی دنیا کے مسائل کبھی ایک مضمون کی حد میں محدود نہیں رہتے۔ یہ غیر یقینی حالات، ڈیٹا پر مبنی فیصلے، ٹیکنالوجی اور انسانی رویوں کے باہمی تعلقات اور اخلاقیات کے پیچیدہ پہلوؤں سے جڑے ہوتے ہیں، جنہیں حل کرنے کے لیے مختلف زاویوں سے سوچنا ضروری ہے۔

ارتقا کا مطلب یہ نہیں کہ روایتی مضامین بے اہمیت ہو گئے ہیں۔ ریاضی آج بھی بنیاد ہے، اکنامکس آج بھی ناگزیر ہے، اور سوشل سائنسز آج بھی معاشرتی فہم کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ مضامین اب نئے اوزار، سوالات اور اطلاقات کے ساتھ جُڑ چکے ہیں۔ علم وقت کے ساتھ خود کو ڈھالتا اور آگے بڑھتا ہے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ڈگریاں بند کرنا ایک سنگین حکمت عملی کی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔ جب ادارے پروگرام ختم کرتے ہیں تو وہ اپنی علمی یادداشت کھو دیتے ہیں اور طلبہ و اساتذہ میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ دنیا کی کامیاب یونیورسٹیاں یہی راستہ نہیں اپناتی ہیں۔ انہوں نے پرانی ڈگریوں کو نئے ٹریکس کے ساتھ ارتقا دیا، مشترکہ اور ہائبرڈ پروگرام متعارف کروائے، اساتذہ کو بدلنے کے بجائے ان کی مہارتیں بہتر کیں، اور پرانے اور نئے ماڈلز کو ساتھ ساتھ چلایا۔ یہی پائیدار اور دانشمندانہ راستہ ہے۔

ایک اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی ایک فرد اکیلا بین الضابطہ پروگرام ڈیزائن نہیں کر سکتا۔ ہر ماہر کے علمی تعصبات اور فکری حدود ہوتے ہیں۔ اس لیے interdisciplinary education کے لیے ٹیم ورک ضروری ہے، جہاں ریاضی دان کمپیوٹر سائنسدان کے ساتھ، اکنامسٹ ڈیٹا سائنٹسٹ کے ساتھ، اور سوشل سائنسدان AI ریسرچر کے ساتھ مل کر کام کریں۔ یونیورسٹیوں کو ایسے نظام قائم کرنے ہوں گے جو تعاون اور مشترکہ سوچ کو فروغ دیں، نہ کہ تنہائی اور محدودیت کو۔

ٹیکنالوجی اور Generative AI کو اب ایک آپشن سمجھنا خود فریبی ہے۔ پروگرامنگ، ڈیٹا ٹولز، ماڈلنگ اور AI آج کے تعلیمی انفراسٹرکچر کا لازمی حصہ ہیں، جیسے کبھی لائبریری اور لیبارٹری ہوا کرتی تھیں۔ Generative AI سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ہمیں سیکھنا ہوگا کہ اسے اخلاقی، ذمہ دار اور تعلیمی مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کیا جائے۔ جو ادارے AI کو نظرانداز کریں گے، وہ اپنے طلبہ کو عالمی مقابلے میں پیچھے چھوڑ دیں گے۔

نئی بین الضابطہ ڈگریاں ہمیشہ بہترین آغاز کے ساتھ نہیں آتیں۔ وہ وقت کے ساتھ بہتر ہوتی ہیں، فیڈبیک سے ارتقا پاتی ہیں اور تجربے سے مضبوط ہوتی ہیں۔ کامل منصوبوں کا انتظار دراصل پیچھے رہ جانے کا نسخہ ہے۔ ترقی ہمیشہ آغاز، تجربے اور بہتری کے عمل سے آتی ہے، نہ کہ سستی اور تذبذب سے۔

پاکستانی یونیورسٹیوں کے سامنے دو واضح راستے ہیں: یا تو پروگرام بند کر کے دائرہ محدود کیا جائے، یا پروگرام ارتقا کر کے افق وسیع کیا جائے۔ پہلا راستہ بظاہر آسان مگر نقصان دہ ہے، جبکہ دوسرا مشکل ضرور ہے مگر پائیدار اور مستقبل ساز ہے۔ مستقبل کی یونیورسٹی وہ نہیں جو اپنی بنیادیں چھوڑ دے، بلکہ وہ ہے جو مضبوط بنیادوں پر نئی عمارت کھڑی کرے۔ ختم کرنا نہیں، ارتقا ہی واحد راستہ ہے۔

یہ ہمارا مسئلہ ہے، ہمارے نوجوانوں کا مسئلہ ہے، اور دراصل ہماری قومی بقا کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان علمی طور پر خودمختار اور عالمی معیار کے مطابق ترقی کرے، تو ہمیں یونیورسٹیوں کے لیے ارتقائی راہ اپنانا ہوگی۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button