کچھ زمانہ قبل کی بات ہے ہر برادری میں چار چوہدری ہوا کرتے تھے جو خاندان برادری کے بہت سے امور کو دیکھا کرتے تھے اور ان کے فیصلوں اور رائے کا احترام کیا جاتا تھا اور ان فیصلوں کو ساری برادری کی قوت حاصل ہوتی تھی۔ اس قوت کے زیر سایہ جہاں کچھ برائیاں پنپ جاتیں وہاں اس میں بہت سی فلاح بھی چھپی ہوئی تھی، ایک لوکل پنچایت سسٹم، روایت و تہذیب کی بقا، بہت سی قدروں کی حفاظت وغیرہ وغیرہ۔
مجھے یاد ہے امی قصہ سنایا کرتی تھیں کہ ان کے نانا اپنی برادری کے چھوٹے چوہدری تھے اور ان کی بھتیجی کو جب کم عمری میں ناحق طلاق ہوئی گو کہ کچھ قصور لڑکی والوں کا بھی تھا مگر طلاق دینے پہ کیسے لڑکے والوں کے خاندان کا بائیکاٹ کر دیا گیا، ایک طویل مدتی بائیکاٹ جس نے اس خاندان کو نہ صرف سبق پڑھایا بلکہ قدم قدم پہ یاد دلایا کہ انھوں نے کیا کیا تھا۔ اور پھر وقت کے ساتھ بدلتی رتوں روایتوں اور آتی دولت نے اس خاندان کو بالآخر معتبر بنا ہی دیا۔ بہرحال یہ ایک خاموش اور معزز طریقہ احتجاج تھا۔ احتجاج ظلم کے خلاف۔ ناروا رویے کے خلاف اور یہ ایک بہت کامیاب طریقہ کار تھا جو آج کے جدید دور میں بائیکاٹ کہلاتا ہے۔ بائیکاٹ یعنی a passive way of protest ایسا پروٹیسٹ یا احتجاج جس میں مزاحمت تو ہے مگر غیر شائستگی اور توڑ پھوڑ نہیں، تشدد کا عنصر نہیں مگر جو اپنی جگہ ظلم کے خلاف ایک بھرپور آواز رکھتا ہے۔ ایک خاموش آواز جس کی گونج دور تک سنی جاتی ہے۔
بائیکاٹ سے یاد آیا ہمارے ایک بہت ہی محترم اور معتبر دوست ڈاکٹر کاشف مصطفیٰ اپنے ایک مضمون میں تین ایسے اسماء کا تذکرہ کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ فعل بن گئے ایسے اسم۔ ایسی شخصیات جو تقریباً ایک ہی زمانے میں پیدا ہوئیں مگر ان کا نام فعل بن کر لغت کا حصہ بن گیا۔ یعنی ان کا کام اس قدر قابل ستائش یا قابل نفرت تھا کہ لغت میں اب ان کے نام کے کام کا ڈنکا بجتا ہے۔
ان میں سے پہلے تو لوئی پاسچرؔ ہیں جنھوں نے دودھ ابال کر اسے محفوظ کرنے کا طریقہ دریافت کیا اور اب یہ عمل پاسچرائزائشن کہلاتا ہے اور ساری دنیا کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
دوسرے ولیم بینٹنگ ہیں ایک غریب ترکھان تابوت تراش، اپنے موٹاپے سے تنگ، گھوڑوں کے شوقین، اک دن اپنے اک فربہ گھوڑے کو دیکھا چھان بین کرنے پہ یہ پتا چلا کہ اس گھوڑے کو ان کے بچے بریڈ، مربہ جات اور
مٹھائیاں کھلاتے ہیں اس سے مسٹر بینٹنگ نے نشاستہ کے بغیر غذا کو متعارف کروایا اور اس پہ عمل کر کے اپنا تیس کلو وزن کم کر لیا، بغیر نشاستہ کے غذا پہ انھوں نے کتاب بھی لکھی جس کا اس وقت کے ڈاکٹرز نے خوب تمسخر اڑایا کہ مسٹر بینٹنگ کے پاس اپنے دعوے کے سائنسی ثبوت نہیں ہیں مگر آخر سائنس ان نتائج پہ پہنچ ہی گئی اور سائنس کی یہی خوبی ہے کہ وہ اپنی غلطی درست کر لیا کرتی ہے اور پھر اس غذائی طریقہ کار کو مسٹر بینٹنگ کے نام سے ہی شہرت اور جگہ ملی۔
تیسرے چارلس کننگھم بائیکاٹ (Charles Cunningham Boycott) تھے انیسویں صدی کے ایک فوجی افسر اور ایک آئرش زمیندار کے ایجنٹ جس کی ظالمانہ پالیسیز اور رائج ٹیکس میں مقامی زمینداروں کو کوئی سہولت نہ دینے پہ مقامی زمینداروں نے اس کے خلاف ایکا کر لیا اور سماجی طور پہ قطع تعلقی اختیار کر لی۔ نہ اس کے لیے گندم خریدی نہ بیچی گئی نہ اس سے کوئی تعلق واسطہ رکھا گیا۔ یہ مہم اتنی کامیاب رہی کہ اس سماجی انقطاع کو پہلی بار بائیکاٹ کا نام ملا۔ جی ہاں اس واقعے سے پہلے یہ لفظ انگلش لغت کا حصہ نہیں تھا۔ بائیکاٹ کو ایسی ہمہ گیریت نصیب ہوئی کہ یہ پھر مختلف زبانوں حتیٰ کہ افریقی زبان میں بھی احتجاج کے لیے لفظ بائیکاٹ ہی رائج ہوا۔ آپ اس کو دنیاوی کامیابی سمجھیے یا کچھ واقعات کے مابعد الطبیعاتی اثرات کو دیکھیے کہ وہ تاریخ کا، سماج کا اس کی نفسیات کا، زبان کا رخ کیسے بدلتے ہیں۔
آج اس وقت ہمارے ملک میں ہی نہیں، دنیا بھر میں ظلم کا استعارہ بنی ایسی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری ہے اور اس کو لے کر مختلف متضاد آرا گردش کیا کرتی ہیں۔ مجھے ایک سوال پوچھنے کی اجازت دیجیے بطور ایک ذمہ دار اور حساس انسان آپ کسی مظلوم کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ کے اختیار میں کیا ہے؟ کیا آپ ہتھیار اٹھا کر بیت المقدس میں جا سکتے ہیں یقیناً جواب نفی میں ہے۔ کیا آپ ان کی مالی مدد کر سکتے ہیں جواب نفی میں ہے۔ آپ میں سے کتنے لوگ قلم کے ذریعے مدد کر سکتے ہیں؟
پھر ایک عام شخص کے پاس اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو ہونے اور a passive way of protest کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ ( یہ ایک ایسا سیاسی یا سماجی طریقہ ہوتا ہے جس میں افراد یا گروہ بغیر کسی جارحانہ اقدام کے ظالم کے خلاف پرامن طریقے سے احتجاج کرتے ہیں ) ، ایک عام آدمی ظلم کے
خلاف آواز کیسے اٹھائے، احتجاج کیسے کرے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک گاہک کی قوت خرید نہ صرف اس کا بنیادی حق ہے بالکل ووٹ کی طرح یہ بہت بڑی قوت بھی ہے۔ ایسی قوت جس سے وہ جسے چاہے ایک بزنس ایمپائر بنا دے اور جسے چاہے خاک چٹو ادے۔
التزاما ًیہ کہا جاتا ہے کہ مذکورہ بڑے مگر مچھ خود زندہ رہتے ہیں اور چند فیصد رائلٹی پہ مقامی تاجر اور لوکل مزدور کو مروا دیتے ہیں۔
دیکھیے ڈاکٹر کاشف مصطفیٰ ساؤتھ افریقہ میں ہوتے ہیں وہاں کے دو فیصد متحد مسلمز نے ان پراڈکٹس کے مالکان کی چیخیں نکلوا دی ہیں اور اتنے موثر انداز سے تحریک چلائی ہے کہ اب ان کا ساتھ ہندو سکھ عیسائی بھی دیتے ہیں اور ان پراڈکٹس کا بائیکاٹ کرتے ہیں جس سے ان کی رائلٹی پہ گہری زک پہنچتی ہے۔
ہاں درست کہ مقامی تاجر متاثر ہوتا ہے مگر یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کی مقامی لوکل پراڈکٹس کو بھی پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ اگر ہمارا تاجر بشمول مسلم دنیا اس کامیاب بائیکاٹ کے دوران بھی نہیں جاگتا تو پھر شاید صور اسرافیل ہی اسے جگائے۔ مارکیٹس اسی طرح کے حادثات سے اپنی رجحان سازی طے کیا کرتی ہیں اور اس کے ثمرات یہ ہیں کہ آپ کو ان پاکستانی مشروبات، کولاز کے خلاف باقاعدہ مہم نظر آئے گی یہ مہم کیوں اور کون چلا رہا ہے؟ وہی جنھیں نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ آپ مارکیٹ میں جگہ مقامی مصنوعات کو دیں یا پھر ان غیر ملکی مصنوعات کو جو دوست ممالک سے ہیں۔
آپ یہی کر سکتے ہیں۔ آپ اتنا تو کر ہی سکتے ہیں۔ کیا آپ اتنا بھی نہیں کر سکتے؟ مگر یہ تو ایمان کا، انسانیت کا سب سے کمزور درجہ ہے کہ خاموشی سے برائی کو رد اور دور کیا جائے۔
بصد معذرت میں بہت دنیا دار اور کمزور مسلمان ہوں مگر بہرحال میں اسی شناخت کے ساتھ رہنا اور مرنا پسند کروں گی۔
یہ بائیکاٹ آپ کو بتلاتا ہے یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے ایوانوں میں ایک تھا مسٹر چارلس بائیکاٹ۔






