آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعری

خاموشی واحد زبان ہو گئی ہے میری

میر حسن کی ایک اردو نظم

کرسیوں پہ جالے پڑ گئے ہیں
زندگی ویران ہو گئی ہے میری
آٹھ ارب کی اس بھیڑ میں
تنہائی پہچان ہو گئی ہے میری

ہجومِ شہر میں ہر شخص
اپنے ہی سفر میں گم ہے
ہزاروں چہروں کے درمیان
دنیا سنسان ہو گئی ہے میری

جنہیں اپنا سمجھ کر میں نے
عمر بھر سینے سے لگائے رکھا
اب اُن کی یادوں میں
ہر شام ویران ہو گئی ہے میری

در و دیوار بھی اب
مجھ سے باتیں نہیں کرتے
خاموشی میرے گھر کی
واحد زبان ہو گئی ہے میری

آئینے میں روز وہی چہرہ
مجھ سے نظریں ملاتا ہے
مگر آنکھوں کی تھکن کہتی ہے
صورت انجان ہو گئی ہے میری

ہر سال یہی سوچتا رہا
اگلے برس یہ زخم بھر جائیں گے
برسوں بعد جب مڑ کر دیکھا
عمر ہی قربان ہو گئی ہے میری

کبھی اِس گھر میں رات گئے تک
ہنسی کی آواز رہتی تھی
اب ہنس بھی دوں کسی لمحے
تو خوشی مہمان ہو گئی ہے میری

در ابھی تک کھلا ہے
شاید کوئی لوٹ آئے کبھی
حسنؔ، اسی ایک انتظار میں
زندگی زندان ہو گئی ہے میری

میر حسن

post bar salamurdu

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button