کرسیوں پہ جالے پڑ گئے ہیں
زندگی ویران ہو گئی ہے میری
آٹھ ارب کی اس بھیڑ میں
تنہائی پہچان ہو گئی ہے میری
ہجومِ شہر میں ہر شخص
اپنے ہی سفر میں گم ہے
ہزاروں چہروں کے درمیان
دنیا سنسان ہو گئی ہے میری
جنہیں اپنا سمجھ کر میں نے
عمر بھر سینے سے لگائے رکھا
اب اُن کی یادوں میں
ہر شام ویران ہو گئی ہے میری
در و دیوار بھی اب
مجھ سے باتیں نہیں کرتے
خاموشی میرے گھر کی
واحد زبان ہو گئی ہے میری
آئینے میں روز وہی چہرہ
مجھ سے نظریں ملاتا ہے
مگر آنکھوں کی تھکن کہتی ہے
صورت انجان ہو گئی ہے میری
ہر سال یہی سوچتا رہا
اگلے برس یہ زخم بھر جائیں گے
برسوں بعد جب مڑ کر دیکھا
عمر ہی قربان ہو گئی ہے میری
کبھی اِس گھر میں رات گئے تک
ہنسی کی آواز رہتی تھی
اب ہنس بھی دوں کسی لمحے
تو خوشی مہمان ہو گئی ہے میری
در ابھی تک کھلا ہے
شاید کوئی لوٹ آئے کبھی
حسنؔ، اسی ایک انتظار میں
زندگی زندان ہو گئی ہے میری
میر حسن








