کبھی کبھی تیری یاد میں سو جاتا ہوں میں
کبھی کبھی یہی عشق آدھی رات جگائے رکھتا ہے
کبھی کبھی جو سو جاؤں، تُو خوابوں میں ملتا ہے
کبھی کبھی میں سو جاتا ہوں، جاگ جاتی قسمت ہے
کبھی کبھی یوں لگتا ہے، تُو پاس ہے میرے
کبھی کبھی یہ دل پھر تیرا طلب گار نکلتا ہے
کبھی کبھی میں دل کو سمجھا بھی لیتا ہوں
کبھی کبھی یہ دل میری ایک نہیں سنتا ہے
کبھی کبھی میں کچھ اور لکھنے بیٹھتا ہوں
کبھی کبھی ہر لفظ تیرا خیال بن جاتا ہے
کبھی کبھی تیری یاد میں حسنؔ لکھتا ہے اشعار
کبھی کبھی یہ قلم بھی تیرا وفادار نکلتا ہے
میر حسن








