آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہ دل شمسشعر و شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی
ہے الگ ہی ادا دسمبر کی

تھا سہانا بڑا نومبر بھی
بات ہی ہے جدا دسمبر کی

کون سی رات اچھی لگتی ہے
چاند کہنے لگا دسمبر کی

اب تو یوں ہے کہ جیسے جذبوں کو
لگ گئی ہے ہوا دسمبر کی

برف لا کر ہتھیلیوں پر رکھ
مجھ کو مہندی لگا دسمبر کی

جون کی تلخیاں بھلا کے آج
بات کرتے ہیں آ دسمبر کی

ایک دو شعر کچھ نہیں جاناں
آج غزلیں سنا دسمبر کی

گرم بانہوں کی شال ہی دے دو
چل رہی ہے ہوا دسمبر کی

میرے بستر میں آ کے دیکھے تو
ٹوٹ جائے انا دسمبر کی

شاہ دلؔ آ گیا وہ پہلو میں
ہے یہ ساری عطا دسمبر کی

شاہ دل شمس

post bar salamurdu

شاہ دل شمس

حافظ آباد, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button