- Advertisement -

علاجِ تلخیٔ ایام کی ضرورت ہے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

علاجِ تلخیٔ ایام کی ضرورت ہے
فسانے ہو چکے اب کام کی ضرورت ہے

مری حیات بھی صدمے اٹھا نہیں سکتی
تری نظر کو بھی آرام کی ضرورت ہے

غم جہاں کا تصور بھی جرم ہے اب تو
غم جہاں کو نئے نام کی ضرورت ہے

نظام کہنہ کی باتیں نہ کر کہ اب ساقی
نئی شراب، نئے جام کی ضرورت ہے

ترے لبوں پہ زمانے کی بات ہے باقیؔ
تجھے بھی کیا کسی الزام کی ضرورت ہے

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل