پروین شاکر
پروین شاکر چوبیس نومبر ،انیس سو باون میں کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں ۔ انہوں نے انگریزی ادب اور لسانیات دونوں مضامین میں ماسٹر ڈگری حاصل کی تھی ۔اس کے علاوہ ایک ماسٹر ڈگر ی ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں بھی حاصل کی تھی ۔
پروین شاکر کی شاعری اردو شاعری میں ایک تازہ ہوا کے جھونکے کے مانند تھی ۔ پروین نے ضمیر متکلم (صنف نازک) کا استعمال کیا جو اردو شاعری میں بہت کم کسی دوسری شاعرہ نے کیا ہو گا ۔ پروین نے اپنی شاعری میں محبت کے صنف نازک کے تناظر کو اجاگر کیا اور مختلف سماجی مسائل کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ۔ نقاد ان کی شاعری کا موازنہ فروغ فرخزاد ( ایک ایرانی شاعرہ ) کی شاعری سے کرتے ہیں ۔
-

وہ باغ میں میرا منتظر تھا
پروین شاکر کی ایک اردو نظم
-

گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

میں فقط چلتی رہی
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

ہوا مہک اٹھی رنگ چمن بدلنے لگا
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

ہوائے تازہ میں پھر جسم و جاں بسانے کا
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

پورا دکھ اور آدھا چاند
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

سلا رہا تھا نہ بیدار کر سکا تھا مجھے
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

خوشی کی بات ہے
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

گمان
پروین شاکر کی ایک اردو نظم
-

تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے
پروین شاکر کی ایک اردو غزل
-

پروین شاکر
پروین شاکر کی سوانح حیات
-

ایک بُری عورت
پروین شاکر کی ایک اردو نظم



