آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرید احمد

کہیں پہ گشت و گزر اور ہے وجُود کہیں

فرید احمد کی ایک اردو غزل

کہیں پہ گشت و گزر اور ہے وجُود کہیں
ہے شمعِ کُشتہ سرِ بزم اور دُود کہیں

یہی مدارِ جہاں ہے یہی حقیقتِ جاں؟
کہیں نبُود کا ماتم، خوشائے بُود کہیں

کسی کا فیضِ نظر ہے حصولِ اوجِ فلک
نہیں ہے زیب تجھے یہ غرُورِ جُود کہیں

نظر حقيقتِ دنیا سے آشنا ہی نہیں
وگرنہ خوفِ زیاں ہے نہ شوقِ سُود کہیں

خود اُن کی کِشتِ تخیّل تلک مُقیّد ہے
بِرُونِ تن بھی ہوئی آتشِ حسُود کہیں؟

ہے اور بات مری آہ جاں فزا ہے تجھے
ہوا ہے نالہِ دل بھی کبھی سرُود کہیں؟

میں اپنی ذات کے زنداں سے ہی نکل نہ سکا
ہُوا یہ عالمِ محدُود گر کشُود کہیں

کہیں پہ روئے خزاں بھی ہے خوش نوید، فرید
رُخِ بہار ہے خوش فہمیِ نمُود کہیں

فرید احمد 

post bar salamurdu

فرید احمد

فرید احمد دیو - قلمی نام : فرید احمد - ڈالووالی سیالکوٹ پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button