آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

آزادی کے نعروں میں چھپی قانون شکنی

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

پاکستان میں آج کل ایک مخصوص طبقہ یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اگر زبان پر انسانی حقوق، مزاحمت یا آزادی اظہار کا نعرہ ہو تو ہر بات جائز ہو جاتی ہے۔ قانون، ضابطہ اور ریاستی نظم ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایمان مزاری کا معاملہ اسی غلط فہمی کی ایک واضح مثال بن کر سامنے آیا ہے، جہاں قانون شکنی کو مزاحمت اور بدتمیزی کو آزادی اظہار کے خوبصورت نام دے کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

ریاست کا مؤقف ابتدا ہی سے یہ رہا ہے کہ ایمان مزاری کی جانب سے سوشل میڈیا پر دیے گئے بیانات محض تنقید نہیں تھے۔ ان میں پولیس اور ریاستی اداروں کو براہ راست ہدف بنایا گیا، ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی زبان استعمال کی گئی اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ریاستی مشینری کسی جبر کے تحت کام کر رہی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اختلاف رائے ختم اور اشتعال انگیزی شروع ہو جاتی ہے۔

یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ایمان مزاری کوئی عام شہری نہیں بلکہ ایک وکیل ہیں۔ قانون کو پڑھنے، سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے والا اگر خود قانون کی حدود پامال کرے تو یہ معاملہ دوگنا سنگین ہو جاتا ہے۔ ایک وکیل سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ احتجاج اور قانون شکنی کے فرق کو اچھی طرح جانتا ہوگا، مگر یہاں معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ احتجاج آئینی حق ہے، یہ بات درست ہے، مگر یہ حق غیر مشروط نہیں۔ کوئی بھی آئین یا قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ سرکاری اہلکاروں کو گالیاں دی جائیں، انہیں دھمکایا جائے یا عوام کو ان کے خلاف ابھارا جائے۔ اگر ایسا کرنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر احتجاج اور ہجوم کے تشدد میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 سامنے آتا ہے۔ پیکا ایکٹ کے تحت ایسا آن لائن مواد جرم کے زمرے میں آتا ہے جو نفرت کو ہوا دے، اشتعال پیدا کرے یا ریاستی اداروں کے وقار کو مجروح کرے۔ یہ قانون کسی مخصوص دور یا کسی خاص حکومت کی پیداوار نہیں بلکہ ڈیجیٹل انتشار کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر اس قانون پر عمل نہ ہو تو سوشل میڈیا ایک ایسا میدان بن جاتا ہے جہاں ہر شخص ریاست کو للکارنے لگتا ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہی زبان کوئی عام شہری استعمال کرتا، اگر وہ پولیس کے خلاف یہی انداز اختیار کرتا تو کیا اس کے حق میں بھی یہی آوازیں اٹھتیں؟ غالباً نہیں۔ مسئلہ زبان کا نہیں بلکہ بولنے والے کے نام اور پہچان کا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم قانون کو افراد کے قد کاٹھ سے تولتے ہیں۔

عدالت کے فیصلے کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دینا بھی ایک آسان نعرہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ آزادی کے غلط استعمال کے خلاف ہے۔ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ ریاستی اداروں کو تضحیک کا نشانہ بنایا جائے اور پھر یہ توقع کی جائے کہ قانون خاموش رہے۔ اگر قانون خاموش ہو جائے تو پھر وہ صرف کتابوں میں رہ جاتا ہے۔

ریاستی رٹ کا تصور محض طاقت کا نام نہیں بلکہ نظم و ضبط کا نام ہے۔ اگر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر وقت گالی، دھمکی اور دباؤ کے نیچے ہوں تو وہ اپنی ذمہ داری کیسے ادا کریں گے۔ ایسے ماحول میں عام شہری سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔ اس لیے عدالت کا سخت مؤقف دراصل معاشرتی توازن کی بحالی کی کوشش ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فیصلے مثال کے طور پر ہوتے ہیں۔ یہ پیغام دینا ضروری تھا کہ انسانی حقوق کا نعرہ قانون سے بچنے کی ڈھال نہیں بن سکتا۔ وکالت، شہرت یا سوشل میڈیا کی مقبولیت کسی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ قانون کی حد پار کرے اور پھر خود کو مظلوم ثابت کرے۔

میری رائے میں ایمان مزاری کے معاملے میں عدالت نے کسی فرد کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ ایک اصول کو زندہ کیا ہے۔ یہ اصول کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ جو اس اصول کو مانے گا وہ محفوظ رہے گا، اور جو اسے چیلنج کرے گا اسے انجام کا سامنا کرنا ہوگا۔

آخر میں بات بہت سادہ ہے۔ اختلاف کرنا جرم نہیں، مگر قانون توڑنا جرم ہے۔ جو شخص اس فرق کو مٹا دے، چاہے وہ وکیل ہی کیوں نہ ہو، سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اس مقدمے میں یہی ہوا، اور اسی لیے یہ فیصلہ درست بھی ہے اور ضروری بھی۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button