اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

یاں تک آئے اپنے سہارے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

یاں تک آئے اپنے سہارے
آگے وحشت جس کو پکارے

جس کو اتنا ڈھونڈ رہے ہیں
جانے وہ کس گھاٹ اتارے

تیری آس پہ آرزوؤں نے
ہر رستے میں پاؤں پسارے

ہم نے جب پتوار سنبھالے
ابھرے طوفانوں سے کنارے

دنیا کو ہے شغل سے مطلب
تم ہارو یا باقیؔ ہارے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button