اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی
سامنے ہے بھرا بازار ابھی

آدمی ساتھ نہیں دے سکتا
تیز ہے سائے کی رفتار ابھی

یہ کڑی دھوپ یہ رنگوں کی پھوار
ہے ترا شہر پُراسرار ابھی

دل کو یوں تھام رکھا ہے جیسے
بیٹھ جائے گی یہ دیوار ابھی

آنچ آتی ہے صبا سے باقیؔ
کیا کوئی گل ہے شرر بار ابھی

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button