سائٹ کا نقشہ
- کسی بھی سنگِ ملامت سے جی نہیں بھرتا
- جو گریزاں ہو نہ بیباک ملے
- وہ جو ہر لب پہ ہے رنگین فسانے کی طرح
- کیف جنوں سے دیر و حرم بولنے لگ
- ابر سے جیسے ہم آغوش ہو ساون کی ہوا
- وہ کوئے دل ہو کہ اہلِ نظر کے دروازے
- پھول جس کے لب و رخسار کے شیدائی ہیں
- جب وہ صہبا سے بہک جاتی ہے
- پھر کسی آس میں رہ کر دیکھیں
- میں خوش نہیں ہوں کہ شب کے مصاحبین کے ساتھ
- کچھ التفاتِ یار میں رنجیدگی بھی ہے
- دل شکستہ ہیں نہ پامال نظر آتے ہیں
- روشنی کا نشان چاہتے ہیں
- اب لطف و بے خودی کے وہ موسم نہیں رہے
