سائٹ کا نقشہ
- اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا
- امّاں
- صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے
- نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہوگا
- مآلِ جاں نثاری شدتِ غم ہے جہاں تو ہے
- وہ عہد تم نے توڑ دیا جس پہ بیشمار
- نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو
- وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
- ہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلو
- ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
- نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہو گا
- وہ علم میں جس کے اول سے ہر رازِ نہانِ ہستی ہے
- سب کو ادراکِ زیاں گِر کے سنبھلنے سے ہُوا
- وعدہ نہ سہی یونہی چلے آؤ کسی دن
