Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
لعل پر کب دل مرا مائل ہوا
کوئی فقیر یہ اے کاشکے دعا کرتا
بندھا رات آنسو کا کچھ تار سا
حیراں ہے لحظہ لحظہ طرز عجب عجب کا
سینکڑوں بیکسوں کا جان گیا
ہنگام شرح غم جگر خامہ شق ہوا
کل میں کہا وہ طور کا شعلہ کہاں گرا
آتے ہی آتے تیرے یہ ناکام ہوچکا
سنبل تمھارے گیسوئوں کے غم میں لٹ گیا
سینے میں شوق میر کے سب درد ہو گیا
کیا تو نمود کس کی کیسا کمال تیرا
فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا
ہوئیں رسوائیاں جس کے لیے چھوٹا دیار اپنا
ربط دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا
<<
1
...
313
314
315
316
317
318
319
320
321
322
323
...
701
>>