Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
آغشتہ خون دل سے سخن تھے زبان پر
کیا کیا نہ لوگ کھیلتے جاتے ہیں جان پر
مت آنکھ ہمیں دیکھ کے یوں مار دیا کر
بے لطفیاں کرو ہو یہ تس پر غضب ہے اور
آ ہم نشیں کسو کے مت عشق کی ہوس کر
آئی ہے اس کے کوچے سے ہوکر صبا کچھ اور
چمکی ہے جب سے برق سحر گلستاں کی اور
نئے طور سیکھے نکالے ڈھب اور
آخر دکھائی عشق نے چھاتی فگار کر
جنوں میں اب کے کام آئی نہ کچھ تدبیر بھی آخر
رہ جائوں چپ نہ کیونکے برا جی میں مان کر
مجھ کو قفس میں سنبل و ریحاں کی کیا خبر
اب تنگ ہوں بہت میں مت اور دشمنی کر
اس شوخ سے سنا نہیں نام صبا ہنوز
<<
1
...
318
319
320
321
322
323
324
325
326
327
328
...
701
>>