Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
جس پہ اس موج سی شمشیر کا اک وار کیا
شب رفتہ میں اس کے در پر گیا
بے طاقتی میں تو تو اے میر مر رہے گا
پندگو مشفق عبث میرا نصیحت گر ہوا
ٹپکتی پلکوں سے رومال جس گھڑی سرکا
حلقہ ہوئی وہ زلف کماں کو چھپا رکھا
میں جوانی میں مے پرست رہا
چمن بھی ترا عاشق زار تھا
دل گیا مفت اور دکھ پایا
چاک کر سینہ دل میں پھینک دیا
اندوہ و غم کے جوش سے دل رک کے خوں ہوا
منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا
اے نکیلے یہ تھی کہاں کی ادا
رہا میں تو عزت کا اعزاز کرتا
<<
1
...
314
315
316
317
318
319
320
321
322
323
324
...
701
>>