Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
اس کام جان و دل سے جو کوئی جدا ہوا
کل دل آزردہ گلستاں سے گذر ہم نے کیا
اس قدر آنکھیں چھپاتا ہے
جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا
دل دفعتہ جنوں کا مہیا سا ہو گیا
پھرتا ہے زندگی کے لیے آہ خوار کیا
غنچہ ہی وہ دہان ہے گویا
ان سختیوں میں کس کا میلان خواب پر تھا
تیغ لے کر کیوں تو عاشق پر گیا
جی رک گئے اے ہمدم دل خون ہو بھر آیا
یار ہے میر کا مگر گل سا
چمن میں جاکے جو میں گرم وصف یار ہوا
ایک دل کو ہزار داغ لگا
تیغ کی اپنی صفت لکھتے جو کل وہ آگیا
<<
1
...
310
311
312
313
314
315
316
317
318
319
320
...
701
>>