Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
خط سے وہ زور صفاے حسن اب کم ہو گیا
کیفی ہو کیوں تو ناز سے پھر گرم رہ ہوا
مذکور میری سوختگی کا جو چل پڑا
دل فرط اضطراب سے سیماب سا ہوا
دیکھ آرسی کو یار ہوا محو ناز کا
غم ابھی کیا محشر مشہور کا
نظر میں طور رکھ اس کم نما کا
وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا
میں غش کیا جو خط لے ادھر نامہ بر چلا
وہ شوخ ہم کو پائوں تلے ہے ملا کیا
اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا
کب لطف زبانی کچھ اس غنچہ دہن کا تھا
یہ روش ہے دلبروں کی نہ کسو سے ساز کرنا
یک آن اس زمانے میں یہ دل نہ وا ہوا
<<
1
...
309
310
311
312
313
314
315
316
317
318
319
...
701
>>