Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
دل عشق میں خوں دیکھا
ناگہ جو وہ صنم ستم ایجاد آگیا
گرم مجھ سوختہ کے پاس سے جانا کیا تھا
وارد گلشن غزل خواں وہ جو دلبر یاں ہوا
آیا ہے ابر جب کا قبلے سے تیرا تیرا
یاں اپنی آنکھیں پھر گئیں پر وہ نہ آ پھرا
پھریے کب تک شہر میں اب سوے صحرا رو کیا
عاشق ترے لاکھوں ہوئے مجھ سا نہ پھر پیدا ہوا
تمام روز جو کل میں پیے شراب پھرا
لے رنگ بے ثباتی یہ گلستاں بنایا
اس کام جان و دل نے عالم کا جان مارا
یہ میر ستم کشتہ کسو وقت جواں تھا
عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا
مکث طالع دیکھ وہ ایدھر کو چل کر رہ گیا
<<
1
...
311
312
313
314
315
316
317
318
319
320
321
...
701
>>