Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
یاد آؤ نہ صبح و شام بہت
ہے یہ کیسی غم جاں کی صورت
ہر رہرو اخلاص پہ رہتی ہے نظر اب
اک آئینہ نظر میں سما کر چلا گیا
جس طرف بھی ترا خیال گیا
اس کارگہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا
ابر گلشن برس گیا تو کیا
ان کو دل کا مدعا سمجھائیں کیا
تو قادر مطلق ہے یہی وصف ہے کم کیا
دشت یاد آیا کہ گھر یاد آیا
دشت یاد آیا کہ گھر یاد آیا
رنگ دل، رنگ نظر یاد آیا
سود یاد آیا، زیاں یاد آیا
کچھ اس انداز سے اس فتنہ پرور کا پیام آیا
<<
1
...
300
301
302
303
304
305
306
307
308
309
310
...
701
>>