Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
وقف رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
یعنی نگارِ صبح کے پاؤں پڑا ہوا
پہلے آواز لگائی ہم نے
زندگی حسن بام و در تو نہیں
چھا کر دلوں پہ ان کی نظر مطمئن نہیں
گل کے پردے میں ہے کیا معلوم نہیں
چشمک ہم سفراں یاد نہیں
یہ گل نہیں یہ شگوفے نہیں یہ خار نہیں
دل کسی صورت ٹھہر پاتا نہیں
زندگی اتنی گراں بار نہیں
میکشوں میں وہ اضطراب نہیں
اخلاص کو مجبور فغاں دیکھ رہے ہیں
ہم کس کے جہاں میں بس رہے ہیں
اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں
<<
1
...
295
296
297
298
299
300
301
302
303
304
305
...
701
>>