Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ہجوم رنج و الم میں صبر و قرار پر غور کر رہا ہوں
اپنا قصہ سنا رہا ہوں میں
تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
ہمہ تن عرض حال ہیں ہم لوگ
کوئی سمجھے تو زمانے کا بھرم ہیں ہم لوگ
رہتے ہیں تصور سے بھی اب دور کہیں لوگ
پہچان سکے نہ تیرے ڈھب تک
کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو
کوئی نغمہ تو در سے پیدا ہو
کیا تم سے گلہ کہ مہرباں ہو
چیں بہ جبیں ہو
دل کے مٹنے لگے نشاں دیکھو
ان کا یا اپنا تماشا دیکھو
صبح کا بھید ملا کیا ہم کو
<<
1
...
298
299
300
301
302
303
304
305
306
307
308
...
701
>>