Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
چلے ہیں ایک زمانے کے بعد دیوانے
کسی نے نہ دریا کے اسرار کھولے
یاں تک آئے اپنے سہارے
ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے
جو دنیا کے الزام آنے تھے، آئے
بولے منہ سے نہ مسکرائے
ہوئی کش مکش زندگی کی فسانہ
اک سانس ہے نوحہ، اک قصیدہ
یہ آگ آگ ہوائیں یہ سرخ سرخ زمیں
ہے روایات محبت کا امیں
کہہ رہی ہیں حضور کی باتیں
یہ رات یہ دشت کی ہوائیں
دیکھ کر صبح کی گھڑی نزدیک
ٹھہرو ٹھہرو قافلے والو
<<
1
...
303
304
305
306
307
308
309
310
311
312
313
...
701
>>