Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
غم بنا دے نہ تماشا ہم کو
حسرت ہے جو نکال لو غصہ اتار لو
نگار دشت کی جانب کوئی قدم اب تو
دل کی آس مٹائے کون
خود کو لگتے ہیں اجنبی سے ہم
لبوں کو کھول کر یوں رہ گئے ہم
ہجوم رنج و غم میں کھو گئے ہم
کیا دور جہاں سے ڈر گئے ہم
وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم
ماضی میں ہیں اب نہ حال میں ہم
وہیں سمجھو ہماری داستاں ختم
کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط
احساس زندگی کی کلی کھل گئی ہے پھر
تبصرہ تھا مرے فسانے پر
<<
1
...
299
300
301
302
303
304
305
306
307
308
309
...
701
>>