Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
کارواں یا غبار کو دیکھا
چشم نظارہ پہ کیا کوئی بھی الزام نہ تھا
چمن میں شور بہت شوخی صبا کا تھا
کیوں میں تیری دہائی دینے لگا
دشت جنوں میں غم کا جرس بولنے لگا
سیر مانند صبا کیجے گا
ہر گھڑی فکر کہ اب کیا ہو گا
وہ مقام دل و جاں کیا ہو گا
ترے جہاں کے نظاروں کا ساتھ دے نہ سکا
دل کا حریف مے کا پیالہ نہ ہو سکا
ہر داغ ہے داغ زندگی کا
ہم چھپائیں گے بھید کیا دل کا
<<
1
...
301
302
303
304
305
306
307
308
309
310
311
...
701
>>