Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
موج ہاتھ آئے تو دریا مانگیں
تھا میسر نہ ایک تار ہمیں
وقت چپ سا کھڑا ہے رستے میں
کر لیا آپ نے گھر آنکھوں میں
کیا ہے اس اجڑی ہوئی منزل میں
دل ٹھہرتا نہیں ہے سینے میں
خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں
آپ کی یا جہاں کی بات کریں
آپ کی یا جہاں کی بات کریں
تجھ پہ یا خود پہ اعتبار کریں
سورج ڈوب رہا ہے آؤ طوف بادہ و جام کریں
دل کے لئے حیات کا پیغام بن گئیں
کوئی سمجھے تجھے نا مہرباں کیوں
میں ہر اک محفل میں اس امید پر بیٹھا رہوں
<<
1
...
297
298
299
300
301
302
303
304
305
306
307
...
701
>>