آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم احسان بٹ

چھوڑ آیا ہوں خود خوشی گھر کی

کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل

چھوڑ آیا ہوں خود خوشی گھر کی
اب مسافت ہے زندگی بھر کی

جو لکیریں ہمارے ہاتھ کی ہیں
بات ساری ہے یہ مقدر کی

وہ محبت خرید لائے گی
وہ تو بیٹی ہے ایک تاجر کی

میں حقیقت بیان کرتا ہوں
میں اڑاتا نہیں ہوں بے پر کی

وہ تو بس بات کرتا جاتا ہے
سیر کرتا ہوں میں سمندر کی

میں اکیلا لڑوں گا دشمن سے
میں قیادت کروں گا لشکر کی

میری چڑیوں سے دوستی ہے کلیم
ایک رونق ہے میرے اندر کی

کلیم احسان بٹ

post bar salamurdu

کلیم احسان بٹ

کلیم احسان بٹ جلا لپور جٹاں ضلع گجرات میں 5 دسمبر 1964 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام احسان اللہ بٹ تھا۔ آپ نے اپتدائی تعلیم جلال پور جٹاں میں حاصل کی۔ ایم اے گورنمنٹ زمیندار کالج گجرات سے کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ آپ کی اب تک سات کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے تین شاعری کی ہیں۔ تفصیل حسب ذیل ہے 1۔گجرات میں اردو شاعری۔گجرات کی 444سالہ علمی و ادبی تاریخ 2۔ موسم گل حیران کھڑا ہے شاعری 3۔ ابر رحمت جلد اول تحقیق 4۔ ابر رحمت جلد دوم تحقیق 5۔ چلو جگنو پکڑتے ہیں شاعری 6۔ تفہیم و تحسین تنقیدی مضامین 7۔ حیرت باقی رہ جاتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button