- Advertisement -

Pos Ki Raat

An Afsana By Munshi Prem Chand

پوس کی رات
لکو نے آ کراپنی بیوی سے کہا، ’’شہنا آیا ہے لاؤ جو روپے رکھے ہیں اسے دیدو کسی طرح گردن تو چھوٹے۔‘‘

منی بہو جھاڑو لگا رہی تھی۔ پیچھے پھر کر بولی، ’’تین ہی تو روپے ہیں دیدوں، تو کمبل کہاں سے آئے گا۔ ماگھ پوس کی رات کھیت میں کیسے کٹے گی۔ اس سے کہہ دو فصل پر روپے دیں گے۔ ابھی نہیں ہے۔‘‘

ہلکو تھوڑی دیر تک چپ کھڑا رہا۔ اور اپنے دل میں سوچتا رہا پوس سر پر آگیا ہے۔ بغیر کمبل کے کھیت میں رات کو وہ کسی طرح سو نہیں سکتا۔ مگر شہنا مانے گا نہیں،گھڑکیاں دے گا۔ یہ سوچتا ہوا وہ اپنا بھاری جسم لیے ہوئے (جو اس کےنام کو غلط ثابت کر رہا تھا) اپنی بیوی کے پاس گیا۔ اور خوشامد کر کے بولا۔ ’’لا دیدے گردن تو کسی طرح سے بچے کمبل کے لیے کوئی دوسری تدبیر سوچوں گا۔‘‘

منی اس کے پاس سے دور ہٹ گئی۔ اور آنکھیں ٹیڑھی کرتی ہوئی بولی، ’’کرچکے دوسری تدبیر۔ ذرا سنوں کون تدبیر کرو گے؟ کون کمبل خیرات میں دیدے گا۔ نہ جانے کتنا روپیہ باقی ہے جو کسی طرح ادا ہی نہیں ہوتا۔ میں کہتی ہوں تم کھیتی کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔ مرمر کر کام کرو۔ پیداوار ہو تو اس سے قرضہ ادا کرو چلو چھٹی ہوئی، قرضہ ادا کرنے کے لیے تو ہم پیدا ہی ہوئے ہیں۔ ایسی کھیتی سے باز آئے۔ میں روپے نہ دوں گی، نہ دوں گی۔‘‘

ہلکورنجیدہ ہو کر بولا، ’’تو کیا گالیاں کھاؤں۔‘‘

منی نے کہا، ’’گالی کیوں دے گا؟ کیا اس کا راج ہے؟‘‘ مگر یہ کہنے کے ساتھ ہی اس کی تنی ہوئی بھویں ڈھیلی پڑ گئیں۔ ہلکو کی بات میں جو دل دہلانے دینےو الی صداقت تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس کی جانب ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ اس نے طاق پر سے روپے اٹھائے اور لاکر ہلکو کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ پھر بولی، ’’تم اب کی کھیتی چھوڑ دو۔ مزدوری میں سکھ سے ایک روٹی تو کھانے کو ملے گی۔ کسی کی دھونس تو نہ رہے گی اچھی کھیتی ہے مزدوری کر کے لاؤ وہ بھی اس میں جھونک دو۔ اس پر سے دھونس۔‘‘

ہلکو نےروپے لیے اور اسی طرح باہر چلا۔ معلوم ہوتا تھا وہ اپنا کلیجہ نکال کر دینے جارہا ہے۔ اس نے ایک ایک پیسہ کاٹ کر تین روپے کمبل کے لیے جمع کیے تھے۔ وہ آج نکلے جارہے ہیں۔ ایک ایک قدم کے ساتھ اس کا دماغ اپنی ناداری کے بوجھ سے دبا جارہاتھا۔

پوس کی اندھیری رات۔ آسمان پر تارے بھی ٹھٹھرتے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ ہلکو اپنےکھیت کے کنارے اوکھ کے پتوں کی ایک چھتری کےنیچے بانس کے کھٹولے پر اپنی پرانی گاڑھے کی چادر اوڑھے ہوئےکانپ رہا تھا۔ کھٹولے کے نیچے ا س کا ساتھی کتا ’جبرا‘ پیٹ میں منھ ڈالے سردی سے کوں کوں کررہا تھا۔ دو میں سے ایک کو بھی نیند نہ آتی تھی۔

ہلکو نے گھٹنوں کو گردن میں چمٹاتے ہوئے کہا، ’’کیوں جبرا جاڑا لگتا ہے کہا تو تھا گھر میں پیال پر لیٹ رہ۔ تو یہاں کیا لینے آیا تھا۔ اب کھا سردی، میں کیا کروں۔ جانتا تھا۔ میں حلوہ پوری کھانے آرہا ہوں۔ دوڑتے ہوئے آگے چلے آئے۔ اب روؤ اپنی نانی کے نام کو۔‘‘ جبرانے لیٹے ہوئے دم ہلائی اور ایک انگڑائی لے کر چپ ہو گیا شاید وہ یہ سمجھ گیا تھا کہ اس کی کوں، کوں کی آواز سے اس کےمالک کو نیند نہیں آرہی ہے۔

ہلکو نے ہاتھ نکال کر جبرا کی ٹھنڈی پیٹھ سہلاتے ہوئے کہا، ’’کل سے میرے ساتھ نہ آنا نہیں تو ٹھنڈے ہو جاؤ گے۔ یہ رانڈ پچھوا ہوا نہ جانے کہاں سے برف لیے آرہی ہے۔ اٹھوں پھر ایک چلم بھروں کسی طرح رات تو کٹے۔ آٹھ چلم تو پی چکا۔ یہ کھیتی کا مزہ ہے اور ایک بھاگوان ایسے ہیں جن کےپاس اگر جاڑا جائے تو گرمی سے گھبرا کر بھاگے۔ موٹے گدے لحاف کمبل مجال ہے کہ جاڑے کا گذر ہوجائے۔ تقدیر کی خوبی ہے مزدوری ہم کریں۔ مزہ دوسرے لوٹیں۔‘‘

ہلکو اٹھا اور گڈھے میں ذرا سی آگ نکال کر چلم بھری۔ جبرا بھی اٹھ بیٹھا۔ ہلکو نے چلم پیتے ہوئے کہا، ’’پئے گا چلم؟ جاڑا تو کیا جاتا ہے ہاں ذرا من بہل جاتا ہے۔‘‘

جبرا نے اس کی جانب محبت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ ہلکو نے کہا۔ ’’آج اور جاڑا کھالے۔ کل سے میں یہاں پیال بچھادوں گا۔ اس میں گھس کر بیٹھنا جاڑا نہ لگے گا۔‘‘

جبرا نے اگلے پنجے اس کے گھٹنوں پر رکھ دیے اور اس کے منھ کے پاس اپنا منھ لے گیا۔ ہلکو کو اس کی گرم سانس لگی۔ چلم پی کر ہلکو، پھر لیٹا۔ اور یہ طے کر لیا کہ چاہے جو کچھ ہو اب کی سو جاؤں گا۔ لیکن ایک لمحہ میں اس کا کلیجہ کانپنے لگا۔ کبھی اس کروٹ لیٹا کبھی اس کروٹ۔ جاڑا کسی بھوت کی مانند اس کی چھاتی کو دبائے ہوئے تھا۔

جب کسی طرح نہ رہا گیا تو اس نے جبرا کو دھیرے سے اٹھا یا اور اس کے سر کو تھپ تھپا کر اسے اپنی گو د میں سلا لیا۔ کتے کے جسم سےمعلوم نہیں کیسی بدبو آرہی تھی پر اسے اپنی گود سے چمٹاتے ہوئےایسا سکھ معلوم ہوتا تھا جو ادھر مہینوں سے اسے نہ ملا تھا۔ جبرا شاید یہ خیال کر رہا تھا کہ بہشت یہی ہے اور ہلکو کی روح اتنی پاک تھی کہ اسے کتے سے بالکل نفرت نہ تھی۔ وہ اپنی غریبی سے پریشان تھا جس کی وجہ سے وہ اس حالت کو پہنچ گیا تھا۔ ایسی انوکھی دوستی نے اس کی روح کے سب دروازے کھول دیے تھے اس کا ایک ایک ذرہ حقیقی روشنی سے منور ہو گیا تھا ۔اسی اثنا میں جبرا نے کسی جانور کی آہٹ پائی اس کے مالک کی اس خاص روحانیت نے اس کے دل میں ایک جدید طاقت پیدا کردی تھی جو ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں کو بھی ناچیز سمجھ رہی تھی۔ وہ جھپٹ کر اٹھا اور چھپری سے باہر آکر بھونکنے لگا۔ ہلکو نے اسے کئی مرتبہ پچکار کر بلایا پر وہ اس کے پاس نہ آیا کھیت میں چاروں طرف دوڑ دوڑ کر بھونکتا رہا۔ ایک لمحہ کےلیے آ بھی جاتا تو فوراً ہی پھر دوڑتا، فرض کی ادائیگی نے اسے بے چین کر رکھا تھا۔

ایک گھنٹہ گذر گیا سردی بڑھنے لگی۔ ہلکو اٹھ بیٹھا اور دونوں گھٹنوں کو چھاتی سے ملا کر سرکو چھپالیا پھر بھی سردی کم نہ ہوئی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سارا خون منجمد ہو گیا ہے۔ اس نے اٹھ کر آسمان کی جانب دیکھا ابھی کتنی رات باقی ہے۔ وہ سات ستارے جو قطب کے گرد گھومتے ہیں۔ ابھی اپنا نصف دورہ بھی ختم نہیں کرچکے جب وہ اوپر آجائیں گےتو کہیں سویرا ہو گا۔ابھی ایک گھڑی سے زیادہ رات باقی ہے۔

ہلکو کےکھیت سے تھوڑی دیر کے فاصلہ پر ایک باغ تھا۔ پت جھڑ شروع ہو گئی تھی۔ باغ میں پتوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا ہلکو نے سوچا چل کر پتیاں بٹوروں اور ان کو جلا کر خوب تاپوں رات کو کوئی مجھے پتیاں بٹورتے دیکھے تو سمجھے کہ کوئی بھوت ہے کون جانے کوئی جانور ہی چھپا بیٹھاہو۔ مگر اب تو بیٹھے نہیں رہا جاتا۔

اس نے پاس کے ارہر کے کھیت میں جاکر کئی پودے اکھاڑے اور اس کا ایک جھاڑو بنا کر ہاتھ میں سلگتا ہوا اپلہ لیے باغ کی طرف چلا۔ جبرا نے اسے جاتے دیکھا تو پاس آیا اور دم ہلا نے لگا۔

ہلکو نے کہا اب تو نہیں رہا جاتا جبرو، چلو باغ میں پتیاں بٹور کرتاپیں ،ٹاٹھے ہو جائیں گے تو پھر آکر سوئیں گے۔ ابھی تو رات بہت ہے۔ جبرا نےکوں کوں کرتے ہوئے اپنے مالک کی رائے سے موافقت ظاہر کی اور آگے آگے باغ کی جانب چلا۔ باغ میں گھٹا ٹوپ اندھیر ا چھایا ہوا تھا۔ درختوں سے شبنم کی بوندیں ٹپ ٹپ ٹپک رہی تھیں یکا یک ایک جھونکا مہندی کے پھولوں کی خوشبو لیے ہوئے آیا۔

ہلکو نے کہا ، ’’کیسی اچھی مہک آئی جبرا۔ تمہاری ناک میں بھی کچھ خوشبو آرہی ہے؟‘‘

جبرا کو کہیں زمین پر ایک ہڈی پڑی مل گئی تھی۔ وہ اسے چوس رہا تھا۔

ہلکو نے آگ زمین پر رکھ دی اور پتیاں بٹورنے لگا۔ تھوڑی دیر میں پتوں کا ایک ڈھیر لگ گیا۔ ہاتھ ٹھٹھرتے جاتے تھے۔ ننگے پاؤں گلے جاتے تھےاور وہ پتیوں کا پہاڑ کھڑا کر رہا تھا۔ اسی الاؤ میں وہ سردی کو جلا کر خاک کردے گا۔

تھوڑی دیر میں الاؤجل اٹھا۔ اس کی لو اوپر والے درخت کی پتیوں کو چھو چھو کر بھاگنے لگی۔ اس متزلزل روشنی میں باغ کے عالی شان درخت ایسے معلوم ہوتےتھے کہ وہ اس لا انتہا اندھیرے کو اپنی گردن پر سنبھالے ہوں۔ تاریکی کے اس اتھاہ سمندر میں یہ روشنی ایک ناؤ کے مانند معلوم ہوتی تھی۔

ہلکو الاؤ کے سامنے بیٹھا ہوا آگ تاپ رہا تھا۔ ایک منٹ میں اس نے اپنی چادر بغل میں دبالی اور دونوں پاؤں پھیلا دیے۔ گویا وہ سردی کو للکار کر کہہ رہا تھا ، ’’تیرے جی میں آئے وہ کر۔‘‘ سردی کی اس بے پایاں طاقت پر فتح پا کر وہ خوشی کو چھپا نہ سکتا تھا۔

اس نے جبر اسے کہا، ’’کیوں جبرا۔ اب تو ٹھنڈ نہیں لگ رہی ہے؟‘‘ جبرا نے کوں کوں کرکے گویا کہا، اب کیا ٹھنڈ لگتی ہی رہے گی۔

’’پہلے یہ تدبیر نہیں سوجھی نہیں تو اتنی ٹھنڈ کیوں کھاتے؟‘‘

جبرا نے دم ہلائی۔

’’اچھا آؤ، اس الاؤ کو کود کر پار کریں۔ دیکھیں کون نکل جاتاہے اگر جل گئے بچہ تو میں دوا نہ کروں گا۔‘‘ جبرا نے خوف زدہ نگاہوں سے الاؤ کی جانب دیکھا۔ ’’منی سے کل یہ نہ جڑ دینا کہ رات ٹھنڈ لگی اور تاپ تاپ کر رات کاٹی۔ ورنہ لڑائی کرے گی۔‘‘ یہ کہتا ہوا وہ اچھلا اور اس الاؤ کے اوپر سے صاف نکل گیا پیروں میں ذرا سی لپٹ لگ گئی پروہ کوئی بات نہ تھی۔ جبرا الاؤ کے گرد گھوم کر اس کے پاس کھڑا ہوا۔

ہلکو نے کہا چلوچلو، اس کی سہی نہیں۔ اوپر سے کود کر آؤ ۔وہ پھر کودا اور الاؤ کے اس پار آگیا۔ پتیاں جل چکی تھیں۔ باغیچے میں پھر اندھیرا چھا گیا تھا۔ راکھ کے نیچے کچھ کچھ آگ باقی تھی۔ جو ہوا کا جھونکا آنے پر ذرا جاگ اٹھتی تھی پر ایک لمحہ میں پھر آنکھیں بند کر لیتی تھی۔

ہلکو نے پھر چادر اوڑھ لی اور گرم راکھ کےپاس بیٹھا ہوا ایک گیت گنگنانے لگا۔ اس کے جسم میں گرمی آگئی تھی۔ پرجوں جوں سردی بڑھتی جاتی تھی اسے سستی دبا لیتی تھی۔

دفعتاً جبرا زور سے بھونک کر کھیت کی طرف بھاگا۔ ہلکو کو ایسا معلوم ہوا کہ جانور کا ایک غول اس کے کھیت میں آیا۔ شاید نیل گائے کا جھنڈ تھا۔ ان کے کودنے اور دوڑنے کی آوازیں صاف کان میں آرہی تھیں۔ پھر ایسا معلوم ہوا کہ کھیت میں چر رہی ہیں۔ اس نے دل میں کہا ۔ہنہ، جبرا کے ہوتے ہوئے کوئی جانور کھیت میں نہیں آسکتا۔ نوچ ہی ڈالے، مجھے وہم ہو رہا ہے۔ کہاں اب تو کچھ سنائی نہیں دیتا مجھے بھی کیسا دھوکا ہوا۔

اس نے زور سے آواز لگائی جبرا۔ جبرا۔

جبرا بھونکتا رہا۔ اس کے پاس نہ آیا۔

جانوروں کے چرنے کی آواز چرچر سنائی دینے لگی۔ ہلکو اب اپنے کو فریب نہ دے سکا مگر اسے اس وقت اپنی جگہ سے ہلنا زہر معلوم ہوتا تھا۔ کیسا گرمایا ہوا مزے سے بیٹھا ہوا تھا۔ اس جاڑے پالے میں کھیت میں جانا جانوروں کو بھگانا ان کا تعاقب کرنا اسے پہاڑ معلوم ہوتا تھا۔ اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ بیٹھے بیٹھے جانوروں کو بھگانے کے لیے چلانے لگا۔ لہو لہو، ہو۔ ہو۔ ہاہا۔

مگر جبرا پھر بھونک اٹھا۔ اگر جانور بھاگ جاتے تووہ اب تک لوٹ آیا ہوتا۔ نہیں بھاگے ابھی تک چر رہے ہیں۔ شاید وہ سب بھی سمجھ رہے ہیں کہ اس سردی میں کون بیٹھا ہے جو ان کے پیچھے دوڑے گا۔ فصل تیار ہے کیسی اچھی کھیتی تھی۔ سارا گاؤں دیکھ دیکھ کر جلتا تھا اسے یہ ابھاگے تباہ کیے ڈالتے ہیں۔

اب ہلکو سے نہ رہا گیا وہ پکا ارادہ کر کے اٹھا اور دو تین قدم چلا۔ پھر یکا یک ہوا کا ایسا ٹھنڈا چبھنے والا، بچھو کے ڈنک کا سا جھونکا لگا وہ پھر بجھتے ہوئے الاؤ کے پاس آبیٹھا اور راکھ کو کرید کرید کر اپنے ٹھنڈے جسم کو گرمانے لگا۔

جبرا اپنا گلا پھاڑے ڈالتا تھا ۔نیل گائیں کھیت کا صفایا کیے ڈالتی تھیں اور ہلکو گرم راکھ کے پاس بے حس بیٹھا ہوا تھا۔ افسردگی نے اسے چاروں طرف سے رسی کی طرح جکڑ رکھا تھا۔

آخر و ہیں چادر اوڑھ کر سو گیا۔

سویرے جب اس کی نیند کھلی تو دیکھا چاروں طرف دھوپ پھیل گئی ہے۔ اورمنی کھڑی کہہ رہی ہے۔ کیا آج سوتے ہی رہو گے تم یہاں میٹھی نیند سو رہے ہو اور ادھر سارا کھیت چوپٹ ہو گیا۔ سارا کھیت کا ستیاناس ہو گیا بھلا کوئی ایسا بھی سوتا ہے ۔تمہارے یہاں منڈ یا ڈالنے سے کیا ہوا۔ ہلکو نے بات بنائی۔ میں مرتےمرتے بچا۔ تجھے اپنے کھیت کی پڑی ہے پیٹ میں ایسا درد اٹھا کہ میں ہی جانتا ہوں۔

دونوں پھر کھیت کے ڈانڈے پر آئے۔ دیکھا کھیت میں ایک پودے کا نام نہیں اور جبرا منڈیا کےنیچے چت پڑا ہے۔ گویا بدن میں جان نہیں ہے۔ دونوں کھیت کی طرف دیکھ رہے تھے۔ منی کے چہرہ پر اداسی چھائی ہوئی تھی۔ پر ہلکو خوش تھا۔

منی نے فکر مند ہو کر کہا، ’’ اب مجوری کر کے مال گجاری دینی پڑے گی۔‘‘

ہلکو نے مستانہ انداز سے کہا، ’’رات کو ٹھنڈ میں یہاں سونا تو نہ پڑے گا۔‘‘

’’میں اس کھیت کا لگان نہ دوں گی یہ کہے دیتی ہوں ۔جینے کے لیے کھیتی کرتے ہیں مرنے کے لیے نہیں کرتے۔‘‘

’’جبرا ابھی تک سویا ہوا ہے۔ اتنا تو کبھی نہ سوتا تھا۔‘‘

’’آج جاکر شہنا سے کہہ دے، کھیت جانور چر گئے ہم ایک پیسہ نہ دیں گے۔‘‘

’’رات بڑے گجب کی سردی تھی۔‘‘

’’میں کیا کہتی ہوں تم کیا سنتے ہو۔‘‘

’’تو گالی کھلانے کی بات کہہ رہی ہے۔ شہنا کو ان باتوں سے کیا سرو کار ،تمہارا کھیت چاہے جانور کھائیں چاہے آگ لگ جائے، چاہے اولے پڑ جائیں، اسے تو اپنی مال گجاری چاہیے۔‘‘

’’تو چھوڑ دو کھیتی، میں ایسی کھیتی سے باز آئی۔‘‘

ہلکو نے مایوسانہ انداز سے کہا، ’’جی من میں تو میرے بھی یہی آتا ہے کہ کھیتی باڑی چھوڑ دوں۔ منی تجھ سے سچ کہتا ہوں مگر مجوری کا کھیال کرتا ہوں تو جی گھبرا اٹھتا ہے۔ کسان کابیٹا ہو کر اب مجوری نہ کروں گا، چاہے کتنی ہی درگت ہو جائے۔ کھیتی کا مرد جا نہ نہیں بگاڑوں گا۔ جبرا۔ ۔۔جبرا۔۔۔ کیا سوتا ہی رہے گا۔چل گھر چلیں۔‘‘

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل