آپ کا سلاماردو غزلیاتروبینہ صدیق رانیشعر و شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے
محبوس ہے عوام ، اپاہج نظام ہے

کربِ نہاں لیے ہوئے شانوں پہ اب تلک
زندہ ہوں اس لئے بھی کہ مرنا حرام ہے

دیکھو تو کشتِ دل ہے بظاہر ہری بھری
باطن میں کل حیات مِری تشنہ کام ہے

لوحِ قضا پہ نقش ہے کنجِ لحد فقط
رختِ سفر کا پھر بھلا کیا انتظام ہے؟

ہے التجا یہ ماؤں سے غنچے سنبھالئے
بھنورا صفت نفوس کا اک اژدہام ہے

گردِِ ملال ،اشک ِ رواں ، قفلِ لب سہی
سوزِ دروں کا لطف مگر لالہ فام ہے

طوقِ گراں کو توڑ کے جینا ہے اب تجھے
اہلِ خرد سے رانی توُ کیوں ہم کلام ہے!

روبینہ صدیق رانی

post bar salamurdu

روبینہ صدیق رانی

نام روبینہ صدیق قلمی نام :روبینہ صدیق رانی 23 اپریل 1996روشنیوں کےشہر کراچی میں پیدا ہوئی اپنی ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی اور اپنی باقی زندگی بھی یہیں گزارنے کا ارادہ رکھتی ہوں ۔ شاعری کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی طبع ازمائی کر چکی ہوں ۔ فی الحال کوئی شعری مجموعہ نہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button