آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفوزیہ شیخ

رات بھر دل سے کہیں شور جرس آتا ہے

فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل

رات بھر دل سے کہیں شور جرس آتا ہے
یاد جب تیرے بچھڑنے کا برس آتا ہے

اب کسی زخم کو بھرنے کی ضرورت ہی نہیں
اب تو ہر زخم سے اک پھول کا رس آتا ہے

شاخ در شاخ سفر کرتے ھوئے ہمسفرو
ایسی پرواز میں اک باب۔ قفس آتا ہے

کیسے پلکوں سے گرے اور زمیں بوس ھوئے
دل سے اترے ھوئے لوگوں پہ ترس آتا ہے

ہم سے درویش بھی راہوں میں بھٹک جاتے ہیں
اس محبت میں بھی اک شہر ۔ ہوس آتا ہے

حبس کا کون سا موسم ہے کہ شب بھر فوزی
اب ہوا چلتی ہے یاں خار نہ خس آتا ہے

فوزیہ شیخ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button