اردو غزلیاتشعر و شاعریناہید ورک

آنکھ میں نمی کیوں ہے

ناہید ورک کی اردو غزل

آنکھ میں نمی کیوں ہے
اتنی بے کلی کیوں ہے
چاہتوں کی ہر گاگر
درد سے بھری کیوں ہے
تیری سوچ پر ناہید
گرد سی جمی کیوں ہے
تیرے وصل کی ہر چھاؤں
ہجر سے سجی کیوں ہے
بے کلی جو دیتی ہے
ایسی آگہی کیوں ہے
نبض وقت کی ناہید
آج یوں تھمی کیوں ہے

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button