آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

خلوص و پیار کے سانچے میں

ایک اردو غزل از رشید حسرت

خلوص و پیار کے سانچے میں ڈھل کے بات کرو
قیودِ ذات سے باہر نکل کے بات کرو

کہا یہ موسیٰؔ سے حق نے کلام کرتے ہوئے
تمہاری ماں نہیں زندہ، سنبھل کے بات کرو

جو توڑنے کا نہیں، پھر تو جوڑ کے رکھ لو
نہ آئے گا وہ یہاں، تم ہی چل کے بات کرو

شکستہ حال تمہارا نہ کر سکے گا اثر
خزاں کی زردیاں چہرے پہ مل کے بات کرو

خفا کیا تھا اسے اب مناتے پھرتے ہو
کہا تھا کس نے تمہیں یوں مچل کے بات کرو

خریدنے ہیں مجھے پھل تمہارے ٹھیلے سے
تو دام کتنے ہوئے سارے پھل کے، بات کرو

منافرت میں حدیں تم نے پار کر لی ہیں
سو میری آنکھوں سے کچھ دور ٹل کے بات کرو

خفا نہ ہونا ابھی تو مریض سویا ہے
کرو نہ شور، ذرا دھیمے حلقے بات کرو

جسے خدا نے نوازا، اسے زوال کہاں؟
ہزار قینہ رکھو، کُڑھ کے جل کے بات کرو

رشیدؔ شعر کی وقعت سے آشنا ہے کون
ملے نہ داد تو تم بھی اچھل کے بات کرو

رشید حسرتؔ

۲۸ دسمبر ۲۰۲۴، شام ۰۵ بج کر ۳۱ منٹ پر غزل مکمل ہوئی

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button