آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر الیاس عاجزشعر و شاعری

کبھی تیری مجھ سے ملاقات ہوتی

ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز کی ایک اردو غزل

کبھی تیری مجھ سے ملاقات ہوتی
تو مل کے بچھڑتا تو پھر بات ہوتی

یہ دن بھی گزرتے محبت میں تیری
نہ پھر زندگی میں کبھی شام ہوتی

جو ہوتا گزر تیرا میری گلی سے
توتجھ پہ بھی پھولوں کی برسات ہوتی

میں لڑتا رقیبوں سے تیری ہی خاطر
محبت میں مجھ کونہ پھر مات ہوتی

میں جوچاہتا تھا کبھی ویسا ہوتا
محبت کا محور تری ذات ہوتی

ڈاکٹر محمدالیاس عاجز

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button