اردو غزلیاتسعود عثمانیشعر و شاعری

یہی مسئلہ تجھے ہر جگہ نظر آئے گا

سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

یہی مسئلہ تجھے ہر جگہ نظر آئے گا

جو نہیں ملے گا وہ جا بجا نظر آئے گا

کبھی جھانک تو کسی برگِ زرد کی آنکھ میں

کوئی آشنا تجھے دیکھتا نظر آئے گا

کبھی اپنا اصل بھی دیکھ آئنہ توڑ کر

کوئی کرچیوں میں بٹا ہوا نظر آئے گا

کہیں کائنات کے باغ میں گلِ نیلگوں

کہیں سرخ پھول گلاب سا نظر آئے گا

نظر آئے گی تجھے سات رنگ کی روشنی

کوئی راستا تجھے دودھیا نظر آئے گا

ہے تری تلاش میں ، تو ہے جس کی تلاش میں

مگر اس غبارِ سفر میں کیا نظر آئے گا

سعود عثمانی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button