اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

کر نالہ کشی کب تئیں اوقات

میر تقی میر کی ایک اردو غزل

کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریں
فریاد کریں کس سے کہاں جا کے پکاریں

ہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان سے
شاید کسی ناکام کا بھی کام سنواریں

دل میں جو کبھو جوش غم اٹھتا ہے تو تا دیر
آنکھوں سے چلی جاتی ہیں دریا کی سی دھاریں

کیا ظلم ہے اس خونی عالم کی گلی میں
جب ہم گئے دو چار نئی دیکھیں مزاریں

جس جا کہ خس و خار کے اب ڈھیر لگے ہیں
یاں ہم نے انہیں آنکھوں سے دیکھیں ہیں بہاریں

کیوں کر کے رہے شرم مری شہر میں جب آہ
ناموس کہاں اتریں جو دریا پہ ازاریں

وے ہونٹ کہ ہے شور مسیحائی کا جن کی
دم لیویں نہ دو چار کو تا جی سے نہ ماریں

منظور ہے کب سے سر شوریدہ کا دینا
چڑھ جائے نظر کوئی تو یہ بوجھ اتاریں

بالیں پہ سر اک عمر سے ہے دست طلب کا
جو ہے سو گدا کس کنے جا ہاتھ پساریں

ان لوگوں کے تو گرد نہ پھر سب ہیں لباسی
سو گز بھی جو یہ پھاڑیں تو اک گز بھی نہ واریں

ناچار ہو رخصت جو منگا بھیجی تو بولا
میں کیا کروں جو میرؔ جی جاتے ہیں سدھاریں

 

میر تقی میر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button