- Advertisement -

نبی کریمؐ کی تعظیم پر سمجھوتہ ہر گز نہیں

اویس خالد کا ایک اردو کالم

نبی کریمؐ کی تعظیم پر سمجھوتہ ہر گز نہیں

آئے دن کفار اپنے ہمارے پیارے نبیؐ کی شان اقدس میں گستاخی کر کے اپنے اندر کی غلاظت اور خباثت کو ظاہر کرتے رہتے ہیں اوراپنے کفر کے سبب جہنم میں تو وہ پہلے ہی ضرور جائیں گے لیکن آقا کریمؐ کی شان اقدس میں گستاخی کر کے انھوں نے اپنے عذاب میں بے حساب اضافہ کر لیا ہے۔ "ورفعنا لک ذکرک”کی شانوں والے ہمارے نبیؐ” انا اعطینک الکوثر”کے ہمیشہ مالک رہیں گے اور ان کے تمام دشمن ہمیشہ ہی "انا شانئک ھوالابتر”کی بددعا کے زیراثر ہی رہیں گے۔آپ کو یاد ہو گا کہ چند سال پہلے پیرس میں دھماکہ ہوا تو پوری دنیا کے لوگوں نے اظہار یکجہتی کے لیے اپنی اپنی ڈی۔پی پر فرانس کے جھنڈے لگا لیے۔Masjid e nabvi SAWWجس میں پاکستان کے مسلمان بھی شامل تھے۔اس وقت بھی کہا تھا کہ کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو یاد کریں۔ان کافروں سے ہمارا کیا لینا دینا۔یہ کافرکبھی ہمارے دوست نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ان کو ہماری کسی ہمدردی کی قدر ہو سکتی ہے اور اب ساری دنیا دیکھ لے کہ کیسی گستاخی کر رہے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب پوری دنیا کے مسلمان اپنے پیارے آقاؐ کی میلاد شریف کی خوشیاں منا رہے ہیں۔یہ ان مشرکین کی ذہنی و اعصابی شکست کا منھ بولتا ثبوت ہے کہ وہ اسلام سے اور مسلمانوں سے ہر وقت خوفزدہ رہتے ہیں اور جب کہیں بس نہیں چلتا تو ایسی ناپاک جسارت کرتے ہیں اور اپنی ذلالت و عتاب پر مہر ثبت کرتے ہیں۔ذرا سوچیں کہ مسلمان اس وقت ابھی معاشی،معاشرتی،سیاسی،اقتصادی اور علمی لحاظ سے دنیا سے پیچھے ہیں تو مشرکین کے خوف کا یہ عالم ہے جس روزہم مسلمان متحدہو گئے اور ترقی کر گئے تو ان کے خوف کا کیا عالم ہو گا۔

اس وقت یقینا ان کو ایسی جسارت کرنے کی جرات بھی نہیں ہو سکے گی۔لیکن وہ اس غلط فہمی میں ہر گز نہ رہیں کہ ہم اگر آج کمزورہیں تو یہ توہین برداشت کر لیں گے۔ہم بھوک کاٹ سکتے ہیں،فاقے سے رہ سکتے ہیں،بنا پانی کے جی سکتے ہیں،ہر سہولت سے محروم ہو سکتے ہیں لیکن اپنے پیارے آقاؐ کی ناموس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔بھلے ہم کمزور ہیں لیکن ان گستاخوں کی زبانوں کو ان کے تالوؤں سے کھینچنے کی طاقت بہرحال رکھتے ہیں۔گستاخیاں کرنے والے یہ ذہنی مفلوج مریض،عقل کے اندھے نہ تاریخ انسانی سے واقف ہیں اور نہ تاریخ مسلمانی کو جانتے ہیں ورنہ ایسا کرنے سے پہلے ہزار بارسوچتے اور ہر گستاخ کا انجام جانتے ہوتے اور غازی علم دین شہیدؒ اور ہمارے ایسے باقی تمام غازیوں کو بھی کبھی نہ بھولتے۔انھیں علم نہیں کہ ناموس رسالتؐ ہماری وہ نبض ہے کہ اگرا س نبض پرکسی نے ہاتھ رکھا تو اس کی ساری نبضیں کاٹنے کے لیے ہم ہر وقت تیار رہتے ہیں۔کیونکہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ "نبی پاکؐ مومنوں کی جانوں سے بھی ذیادہ ان کے مالک ہیں "(احزاب:6)مسلمان ناموس رسالتؐ پر اپنی جانیں قربان بھی کر سکتے ہیں اور اوردشمنوں کی جانیں لے بھی سکتے ہیں۔ کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے پیارے نبیؐ ہماری جانوں سے بھی ذیادہ ہمیں عزیز ہیں۔مسلمان جانتے ہیں کہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں سورۃ الحجرات میں کیسے بارگاہ مصطفیؐ کا ادب کرنا سکھایا ہے اور سورۃ الفتح: 9 میں ارشاد فرمایا کہ "اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاؤ اور تم رسولؐ کی تعظیم اور توقیر کرواور صبح شام اپنے رب کی تسبیح بیان کرو”۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ کافر کبھی بھی ہمارے دوست اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔یہ مسلمانوں کو زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ہمارے حکمرانوں کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں بنتا۔اللہ پاک نے اسلام کو سرفراز فرمایا ہے۔

انھیں تو ہمارا غلام ہونا چاہیے۔اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے آپس کے جھگڑوں کو چھوڑیں،اپنی تمام خامیوں کی اصلاح کریں اور وہ طاقت حاصل کریں جس کا درس ہمیں ہمارے پیارے آقاؐ نے ہجرت مکہ کے بعد منظم ہو کر دوبارہ مکہ فتح کر کے دیاتھا۔ ارشاد باری تعالی ہے کہ”ایمان والے مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جس نے ایسا کیا وہ اللہ پاک کی حمایت میں بالکل نہیں ہے ماسوائے اس کے کہ تم ان سے بچاؤ کرنا چاہو۔اور اللہ پاک تمھیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے "(آل عمران:28،ترجمہ تبیان القرآن)۔غورکیجیے جس نے ان پر تکیہ کر لیا تو پھر وہ اللہ پاک کی حمایت سے محروم ہو گیا تو یہ کتنی بڑی سزا ہے۔بچاؤ کی حد تک بھی یہ کہ جب تک تم کمزورہو۔اس کا حل ہے کہ طاقت حاصل کرو۔ہمیں ان کافروں سے نہیں ڈرنا بلکہ صرف اپنے رب سے ڈرنا ہے۔تمام مسلم ممالک کو اتحاد کی ضرورت ہے۔سلام ہے ان تمام ممالک کو بلکہ ہر مسلمان کو جو اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔پاکستان کی پارلیمنٹ میں متفقہ طورپر مذمتی قرارداد کا منظور ہونا قابل قدرہے۔طیب اردوان کا بیان بھی سرآنکھوں پر۔دیگر تمام بلاداسلامیہ کو بھی چاہیے کہ یہ احتجاج ہرفور م پر ہر سطح پر بلند کریں اور ان کافروں کی نیندیں اڑا دیں۔لیکن سوچیں کہ مسلمان آپس مین کن باتوں پہ الجھ رہے ہیں اور دشمن اس آڑ میں کیسی چالیں چل رہا ہے۔جب مسلمان نبی کریمؐ کی آمد پر خوشیوں کے حوالے سے یا آپؐ کے علم و اختیارات کے حوالے سے ہی تقسیم ہو کرآپس میں ہی فضول اعتراضات اور بحث کرنے میں توانائیاں صرف کر رہے ہیں تو پھر ان دشمنوں کو اپنے ناپاک اورمذموم عزائم پورے کرنے کا موقع تو ملنا ہی ہے۔امت کے ایک ہونے کا وقت ہے۔تمام فروعی اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کو گلے لگانے کا وقت ہے۔فرقہ واریت کی لعنت کوختم کر کے ایک جسد کی مانند بننے کا وقت ہے۔دشمن کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہم تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں ایک دوسرے کی طاقت ہیں اور حرم کی پاسبانی کے لیے سیسہ پلائی دیوارہیں۔اور ان گستاخوں کا عبرات ناک انجام قریب ہے۔

اویس خالد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو نعتﷺ از حسن رضا بریلوی