اشرافیہ کی ضد، اُردو زبان کی قربانی
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
8 ستمبر 2015ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک ایسا تاریخی فیصلہ دیا جسے عوام کے لیے اُمید کی کِرن سمجھا گیا۔ عدالت نے واضح حکم دیا کہ آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت قومی زبان اُردو کو بطور دفتری زبان نافذ کیا جائے اور تین ماہ کے اندر تمام قوانین اور سرکاری دستاویزات کو اُردو میں منتقل کرنے کا انتظام کیا جائے۔ یہ فیصلہ محض کاغذ پر نہیں رہا بلکہ اُس وقت چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے خود یہ فیصلہ اُردو میں پڑھ کر سنایا تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ قومی زبان کو عملاً اپنانا اب ناگزیر ہے۔ لیکن افسوس کہ ایک دہائی بیت گئی، حکومتیں بدلتی رہیں، وعدے اور اعلانات ہوتے رہے مگر اُردو کو آج تک دفتری زبان کا درجہ نہیں دیا جا سکا۔
یہ سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ آخر وہ کون سی طاقت ہے جو اُردو کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس زبان کی سب سے بڑی دشمن وہ اشرافیہ ہے جو انگریزی کو اپنی طاقت اور امتیاز کا ہتھیار بنائے بیٹھی ہے۔ انگریزی فائلوں، قوانین اور پالیسیوں کے ذریعے عوام اور ریاست کے درمیان ایک ایسی زبان کی رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے جس نے عام آدمی کو اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا ہے۔ ایک کسان یا مزدور جب عدالت یا کسی سرکاری دفتر میں جاتا ہے تو اُسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انگریزی میں لکھی ہوئی تحریروں میں اُس کے بارے میں کیا لکھا ہے۔ انصاف کا دروازہ کھلا ہوتا ہے مگر زبان کی کُنجی اُس کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام محرومی اور بے بسی کے اندھیروں میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اس حوالے سے نہایت واضح مؤقف رکھتے تھے۔ اُنھوں نے 24 مارچ 1948ء کو ڈھاکہ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
"اُردو پاکستان کی قومی زبان ہوگی اور صرف یہی ہماری قومی زبان ہو سکتی ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ تنگ نظری کا شکار ہیں۔”
قائداعظم نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ اُردو ہی وہ زبان ہے جو پورے پاکستان کو ایک لڑی میں پرو سکتی ہے۔ لیکن آج دیکھ لیجیے کہ ہم نے اپنے ہی رہنما کی نصیحت کو پسِ پشت ڈال دیا اور ایک اجنبی زبان کو اپنے سروں پر مسلط کر کے رکھا ہوا ہے۔
اُردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہماری شناخت ہے۔ اس کی وُسعت اور دائرہ اتنا بڑا ہے کہ دنیا کے کروڑوں لوگ اُسے سمجھتے اور بولتے ہیں۔ اُردو شاعری میں گہرائی ہے، نثر میں دلکشی ہے، مذہبی اور فلسفیانہ مباحث میں یہ زبان اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں اتنی گنجائش ہے کہ سائنسی علوم اور جدید ٹیکنالوجی کے تصورات بھی منتقل کیے جا سکیں۔ اگر ہماری یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے اپنی تخلیقات اُردو میں شائع کریں تو علم و آگاہی کا دائرہ ہر گھر تک پہنچ سکتا ہے۔
لیکن یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں ہماری اشرافیہ اُردو کو نافذ نہیں ہونے دیتی؟ وجہ بالکل صاف ہے۔ انگریزی نے حکمران طبقے کو عوام سے ممتاز بنا دیا ہے۔ یہ طبقہ جان بوجھ کر زبان کی وہ دیوار برقرار رکھنا چاہتا ہے جو اُنھیں عام لوگوں سے الگ کر کے ایک خاص مرتبہ عطا کرتی ہے۔ سرکاری ملازمتیں ہوں یا عدالت کے فیصلے، ہر جگہ انگریزی کے ذریعے یہ نظام محدود طبقے تک قید رہتا ہے۔ غریب عوام تو بھوک، مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں پہلے ہی پسے ہوئے ہیں، اور زبان کی رکاوٹ نے اُنھیں ریاستی نظام سے مزید باہر کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بالکل درست کہا تھا کہ قانون ایسی زبان میں ہونا چاہیے جسے عوام سمجھ سکیں۔ لیکن آج بھی حکومت کے اشتہارات، تعلیمی پالیسیاں اور عدالتوں کے فیصلے انگریزی میں آتے ہیں۔ گویا سپریم کورٹ کے حکم کو نظر انداز کر کے اشرافیہ نے اپنے مفادات کی حفاظت کی اور عوام کو محروم رکھا۔ یہ رویہ دراصل انصاف اور مساوات کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
اُردو کو دفتری زبان کے طور پر نافذ کرنے سے عوامی شمولیت بڑھے گی۔ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنی زبان میں ریاست سے مکالمہ کرے۔ عدالتوں کے فیصلے اگر اُردو میں آئیں تو انصاف کی فراہمی واقعی ممکن ہوگی۔ تعلیمی نظام میں اُردو کو بنیاد بنایا جائے تو علم زیادہ تیزی سے عام ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اُردو پورے ملک کے لیے یکجہتی کا ذریعہ ہے، وہ زبان جو کراچی سے خیبر اور بلوچستان سے کشمیر تک ہر دل میں جگہ رکھتی ہے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ترقی یافتہ قومیں اپنی زبانوں کے ذریعے ہی آگے بڑھی ہیں۔ جرمنی نے جرمن میں، جاپان نے جاپانی میں، چین نے چینی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھایا۔ ہم کیوں اپنی قومی زبان کے ساتھ یہ ناانصافی کر رہے ہیں کہ اُسے صرف تقریروں اور شعروں تک محدود کر رکھا ہے؟ اگر ہم نے اب بھی اپنی زبان کو وہ مقام نہ دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
اُردو کو سرکاری سطح پر نافذ کرنا محض ایک لسانی مطالبہ نہیں بلکہ یہ انصاف، مساوات اور عوامی حق کی جنگ ہے۔ 8 ستمبر 2015ء کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے سامنے ہے مگر حکومتیں اس پر عمل درآمد سے انکار کر رہی ہیں۔ قائداعظم کا خواب ابھی ادھورا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم انگریزی کی غلامی سے نکلیں اور اپنی زبان کو فخر کے ساتھ اپنائیں۔ یہی عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اُردو صرف کتابوں میں رہ جائے گی اور عوام اپنی ہی ریاست میں بیگانہ محسوس کرتے رہیں گے۔
یوسف صدیقی








