آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ٹوٹتا خاندانی نظام اور ماں

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور ان افراد کی شخصیت سازی میں سب سے پہلا اور بنیادی کردار ماں کا ہوتا ہے۔ ماں نہ صرف بچے کو جنم دیتی ہے بلکہ اس کی شخصیت، کردار اور اخلاق کو اپنی گود میں پروان چڑھاتی ہے۔ ماں کی محبت، صبر، شفقت اور قربانی ہی وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچہ ہمدردی، احترام اور محبت کے بنیادی اصول سیکھتا ہے۔ لیکن افسوس کہ جس خاندانی نظام نے ماں کو سب سے اونچا مقام دیا تھا، آج وہی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

جدید زندگی اور ماں کی تنہائی

جدید دور کی معاشی دوڑ، مادہ پرستی اور مصروف طرزِ زندگی نے گھروں کا سکون چھین لیا ہے۔ ماں، جو کبھی خاندان کا محور ہوا کرتی تھی، اب اکثر تنہائی اور احساسِ بےقدری کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ پہلے جب خاندان ایک ہی چھت کے نیچے رہتے تھے تو بزرگوں، خصوصاً ماں کا احترام خاندانی ڈور کو مضبوط بنائے رکھتا تھا۔ مگر جیسے جیسے مشترکہ خاندانی نظام ٹوٹا اور ایٹمی خاندان وجود میں آیا، ماں کا کردار محدود ہوتا گیا۔

اب وہی ماں، جس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی، بعض گھروں میں بوجھ سمجھی جاتی ہے۔
یہ المیہ صرف ماں کی نہیں بلکہ پوری تہذیب کا زوال ہے۔ وہ ماں جو بچپن میں راتوں کو جاگ کر بچوں کو سلاتی تھی، ان کی بھوک مٹاتی تھی، ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتی تھی، بڑھاپے میں اکثر نظرانداز اور تنہا کر دی جاتی ہے۔

اولاد کا بدلتا رویہ

بچوں کے رویوں میں تبدیلی ہمارے خاندانی نظام کے بگاڑ کی سب سے بڑی علامت ہے۔ جب اولاد اپنی ماں کی قربانیوں کو فراموش کر دیتی ہے تو گھر کا سکون ختم ہو جاتا ہے۔ بڑھاپے میں ماں کی سب سے بڑی ضرورت عزت، توجہ اور محبت ہے۔ مگر آج کے زمانے میں اولاد اپنی مصروفیات میں اتنی الجھ جاتی ہے کہ ماں کے دل کی تنہائی کو محسوس ہی نہیں کرتی۔

یہی بے حسی خاندانوں کے زوال کی بنیاد بن رہی ہے۔
ماں کو اولڈ ہومز میں چھوڑ دینا یا گھر کے ایک کونے میں بے یار و مددگار کر دینا ہماری اس تہذیب اور مذہب کی توہین ہے، جو ماں کو سب سے زیادہ عزت دینے کا درس دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"تمہاری جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے۔”
لیکن ہم نے اس فرمان کو صرف زبانی احترام تک محدود کر دیا ہے، عملی زندگی میں اسے بھلا دیا ہے۔

ماں خاندان کی بنیاد

ماں خاندان کی بنیاد ہے۔ جب تک ماں کو عزت، محبت اور مقام دیا گیا، خاندانی نظام مضبوط رہا۔
لیکن جب ہم نے اس ستون کو کمزور کرنا شروع کیا تو خاندان کی عمارت بھی لرزنے لگی۔
ماں صرف بچے کو دودھ نہیں پلاتی بلکہ اس کی سوچ، خواب، تربیت اور مستقبل میں اپنا خون جلادیتی ہے۔
وہ اپنی خواہشات قربان کر کے اولاد کی خواہشات پوری کرتی ہے، اور جب یہی اولاد اسے فراموش کر دیتی ہے تو یہ بے قدری خاندانوں کے بکھرنے کی ابتداء بن جاتی ہے۔

معاشرتی دباؤ اور خاندانی فاصلہ

آج کے خاندانی مسائل صرف اولاد کی لاپرواہی تک محدود نہیں۔
معاشرتی دباؤ، معاشی مجبوری اور تعلیمی و ملازمت کی دوڑ نے والدین اور بچوں کے درمیان احساساتی فاصلہ پیدا کر دیا ہے۔
والدین سارا وقت بچوں کی سہولتیں پوری کرنے میں صرف کرتے ہیں، مگر بچوں کی طرف سے ماں کو وہ عزت، وقت اور توجہ نہیں ملتی جس کی وہ حقدار ہے۔
یہی خلا خاندانی رشتوں کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے، اور احساسِ قربانی رفتہ رفتہ مٹ جاتا ہے۔

ماں کا معاشرتی مقام

ماں کا کردار صرف گھر کی حد تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
اگر معاشرہ ماں کے مقام کو تسلیم کرے تو صبر، تعاون، محبت اور ذمہ داری کے جذبات پورے معاشرتی ڈھانچے میں سرایت کر جاتے ہیں۔
ایسا معاشرہ جہاں ماں کی عزت اور قدر نہیں کی جاتی، وہاں اولاد میں اخلاقی تربیت کا بگاڑ، ذمہ داری سے فرار، اور خودغرضی پروان چڑھتی ہے۔

ماں وہ چراغ ہے جو سب کے لیے جلتا ہے، مگر افسوس کہ اکثر لوگ اسی چراغ کو بجھا دیتے ہیں۔

احیائے اقدار کی ضرورت

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اقدار کو زندہ کریں۔
نئی نسل کو یہ سکھایا جائے کہ ماں کی خدمت اور اطاعت صرف ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ دینی حکم ہے۔
ماں کی خوشی خاندان کی خوشی ہے، اور ماں کے دل کا دکھ پورے گھر کے سکون کو متاثر کرتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ خاندانی نظام مضبوط اور مستحکم ہو تو ہمیں سب سے پہلے ماں کو اس کا جائز مقام دینا ہوگا۔
اسے محض گھر کا ایک فرد نہ سمجھا جائے بلکہ خاندان کی روح، نظام کا ستون اور محبت کا سرچشمہ مانا جائے۔

نتیجہ

ماں کی عزت، خاندانی نظام کی مضبوطی اور معاشرتی سکون کا پہلا اور لازمی اصول ہے۔
جب تک ماں کو اس کا اصل مقام واپس نہیں ملے گا، خاندان بکھرتے رہیں گے اور معاشرہ اپنی روحانی طاقت اور اخلاقی بنیاد سے محروم رہے گا۔
ماں صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ وہ محبت، قربانی اور بقا کی علامت ہے۔
خاندانی نظام کی بحالی دراصل ماں کے وقار کی بحالی سے مشروط ہے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button