آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعلی کوثر

یہ جو ہو جانے کے احساس سے

علی کوثر کی ایک اردو غزل

یہ جو ہو جانے کے احساس سے ہم ڈر رہے ہیں
فقط اس جسم سے پھیلے خلا کو بھر رہے ہیں

زمیں پیروں کے نیچے سے سرکتی جارہی ہے
سو اب ہم خود بھی چلنے سے کنارہ کر رہے ہیں

نہیں دیکھا کسی جانب بھی نظروں کو اٹھا کر
ہماری آنکھ کے آگے کئی منظر رہے ہیں

گزاریں گے نئی دنیا میں تیرے ساتھ شامیں
یہاں کافی ہے تیرے ساتھ لمحہ بھر رہے ہیں

وہ جس کے دیکھنے سے ساری گرہیں کھل رہی تھیں
اک ایسی آنکھ میں ہم بھی علی کوثر رہے ہیں

علی کوثر

post bar salamurdu

علی کوثر

میرا تعلق گوجرانولہ سے ہے - میں ملازمت پیشہ ہوں اور بیکن ہاؤس سے منسلک ہوں -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button