سائٹ کا نقشہ
- تھے جو دو چار مر گئے ہیں کیا
- زمیں سے زیر ہوا ہوں نہ آسماں سے میں
- ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے
- پوری لگن امنگ سے میں نے نہیں کیا
- میں پڑا ہوں میکدے میں بوتلوں کے درمیاں
- جنون و عشق کے رستے بحال کرتی ہے
- نہیں جو چیز جہاں میں اسے پکارے گئے
- نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں
- محسوس ہو رہا ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں
- یہ مری انا کی شکست ہے
- مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا
- وہ موجِ تبسّم شگفتہ شگفتہ
- تم ماتھے پہ بل ڈال کے جو بات کرو گی
- وہ یوں ملا کے بظاہر خفا خفا سا لگا
