سائٹ کا نقشہ
- دھول آمادۂ سفر ہی نہ تھی
- دل پہ دار و مدار ہے اپنا
- شہرِ جاں میں قیام ہے دل کا
- کیا کہیں اَور دل کے بارے میں
- لہک رہی ہے کسی گُل کی باس گلیوں میں
- پھول، خوشبو، دھنک ،ستارے سب
- نیند کرتے ہیں مر نہیں جاتے
- غلط نہیں ہے کسی کو یہ مشورہ دینا
- چراغِ تعلّق بجھا دینے والے!
- ہَوائے شب نے جسے تھا نظر میں رکھّا ہُوا
- یہ تماشائے رنگ و بُو بھی مجھے
- اے ہَوا تُو ہی نہیں میں بھی ہوں
- نشّۂ غم ہے اور ہم ہیں بس
- کبھی آباد تھا یہ شہرِ جاں بھی
